السلام علیکم ،میرا سوال یہ ہے کہ میری نانی کا حصہ جو ان کے والد کا گھر بکنے کے بعد میرے ننھیال کو ملا ہے، کیا اس میں میرا حق بنتا ہے ؟جبکہ میری امی کا انتقال میری نا نی کےانتقال سے پہلے ہو چکا تھا اور نانی کا انتقال بعد میں ہوا ہے اور اب میری نانی کا حصہ میرے ننھيال کو ملا ہے ،میرے ننھیال میں میرے نانا اور انکے تین بیٹے اور ایک بیٹی حیات ہیں، جبکہ میری والدہ اِنتقال کر گئی ہیں اور میری نانی کا بھی انتقال ہو چکا ہے اور حصہ اب ملا ہے، میری امی کا انتقال میری نانی سے پہلے ہوا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل کی والدہ کا انتقال اپنی والدہ کی حیات میں ہو چکا تھا، اس لیے شرعاً سائل کی والدہ مرحومہ اپنی والدہ (سائل کی نانی) کی وارث نہیں بنیں اور جب والدہ وارث نہ بنیں تو ان کی اولاد (یعنی سائل اور دیگر بھائی، بہن) بھی نانی کے ترکہ میں کسی حصے کے حقدار نہیں بنے اور نہ ہی وہ اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
کما فی ردالمحتار:وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه الخ(كتاب الفرائض،ج:6،ص:758،ط:سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2