میری پھوپھی کے پاس ایک جائیداد تھی۔ ان کے اپنے کوئی بچے نہیں تھے، البتہ انہوں نے ایک بچی گود لی ہوئی تھی۔ اپنی زندگی کے دوران وہ اپنی بہنوں اور دیگر لوگوں کے سامنے کئی مرتبہ یہ بات کہتی رہی تھیں کہ میرے بعد میری تمام ملکیت میری گود لی ہوئی بیٹی کو دے دی جائے گی۔کوئی تحریری وصیت موجود نہیں ہے، لیکن میری دوسری پھوپھیاں یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ مرحومہ پھوپھی کی یہی خواہش تھی کہ ان کا سارا سامان ان کی گود لی ہوئی بیٹی کو دیا جائے۔ان کی وفات کے بعد سے اب تک میری پھوپھیوں اور دیگر وارثوں کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ گود لی ہوئی بیٹی کا اس جائیداد میں حصہ بنتا ہے یا نہیں۔
براہِ کرم ہمیں آگاہ کریں کہ کیا میری مرحومہ پھوپھی کی یہ زبانی خواہش وصیت کے طور پر مانی جا سکتی ہے یا نہیں۔ جزاک اللہ خیر۔
صورت مسؤلہ میں پھوپھی کا اپنی زندگی میں اپنی بہنوں اور دیگر لوگوں کے سامنے یہ کہنا کہ " میرے مرنے کے بعد تمام ملکیت گود لی ہوئی بیٹی کو دے دی جائے " شرعاوصیت شمار ہوگی اور وصیت چونکہ ایک تہائی جائیداد کی حد تک نافذ العمل ہوتی ہے ، اس لیئے مذکور پھوپھی کی ایک تہائی جائیداد کی حقدار ان کے لے پالک بیٹی ہوگی جبکہ بقیہ جائیدا د ان کے ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوگی ،( جس کی تفصیل ورثاء کی تمام تر معلومات فراہم کرنے کے بعد معلوم کی جاسکتی ہے ) البتہ اگر کوئی وارث جائیداد کی تقسیم کے بعد اپنا حصہ یا تمام ورثاء باہمی رضامندی سے وراثت میں سے حصہ لئے بغیر اس اس لے پالک بیٹی کو دینا چاہیں تو دے دسکتے ہیں ، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں
کما فی در المختار: (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته)۔ ( باب الوصایا ، ج : 6 ، ص : 650 ، ط : سعید )
و فی الھندیہ : "تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية". ( کتاب الوصایا ، الباب الاول فی تفسیرھا ، ج : 6 ، ص : 90 ، ط : ماجدیہ )
وفی البزازیہ : ولو قال فی صحتہ ثلث مالی لفلان ولو ذکرہ فی خلال الوصایا یکون وصیۃ او اضافہ الی ما بعد الموت ولو کان ذلک فی الصحۃ یکون وصیۃ ( کتاب الوصایا ، ج : 6 ، ص : 434 ، ط : ماجدیۃ )
و فی فیض القدیر: (إن الله تصدق عليكم عند وفاتكم بثلث أموالكم) أي مكنكم من التصرف فيها حالتئذ بالوصية وغيرها فتصح الوصية بالثلث ولو مع وجود وارث خاص ومخالفته (وجعل ذلك زيادة لكم في أعمالكم) ( حرف الھمزہ، ج: 2، ص: 220، المکتبۃ التجاریہ )