کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے والد کا انتقال ہوچکا ہے، بوقت انتقال چار بیٹیاں ، ایک پوتا، اور تین پوتیاں موجود تھیں، والد نے مکان ہماری والدہ کے نام کردیا تھا، اور والد خود بھی اسی مکان میں رہتا تھا، یہ مکان شروع سے ہی والدہ کے نام خریدا تھا، والدہ کا انتقال پہلے ہوا تھا، اس وقت والدہ کے ورثاء میں شوہر عبد الباری، ایک بیٹا(انور علی) اور چار بیٹیاں موجود تھیں، والدہ کے بعد بیٹے انور علی کا انتقال ہوگیا تھا، ورثاء میں بیوہ، ایک بیٹا، اور تین بیٹیاں موجود تھیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ پراپرٹی میراث کے مطابق مذکورہ ورثاء میں کس طرح تقسیم کی جائے گی؟
واضح ہوکہ فقط کسی کے نام پر کوئی چیز کرنے یا خریدنے سے شرعاً وہ اس کا مالک نہیں بنتا، جب تک کہ اسے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ حقوق و تصرف کے اختیار کے ساتھ قبضہ نہ دیا جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے والد مرحوم نے مذکور مکان اگر فقط والدہ مرحومہ کے نام پر خریدا ہو، باقاعدہ مالکانہ حقوق و تصرف کے اختیارات نہ دیے ہوں تو شرعاً وہ مکان والد مرحوم کی ملکیت شمار ہوگا، جس میں بیٹا مرحوم(انور علی) اور بیوی چونکہ اپنے مرحوم کی زندگی میں ہی وفات پاچکے ہیں، اس لئے بیٹا مرحوم اور اس کی بیوہ (سائلہ کی والدہ) تو مرحوم کے ترکہ میں شریک نہ ہوں گے، اور نہ ہی مرحوم بیٹے کے واسطے سے اس کی بیوہ ترکہ میں حقدار ہوگی، البتہ مرحوم بیٹے(سائلہ کے بھائی) کی اگر کوئی ذاتی جائیداد ہو تو وہ اس کے ورثاء (بیوہ، اور اولاد) کے درمیان تقسیم ہوگی۔ تاہم سائلہ کے والد مرحوم کے انتقال کے وقت نرینہ اولاد موجود نہ ہونے کی وجہ سے پوتا اور پوتیاں بھی بقدر حصہ شرعی ترکہ میں شریک ہوں گی، جس کی تفصیل ذیل میں آرہی ہے۔
واضح ہو کہ سائلہ کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل تیس(30) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیٹیوں میں سے ہر ایک کو پانچ(5) حصے، اور پوتے کو چار(4) حصے، اور پوتیوں میں سے ہر ایک کو دو(2) حصے دیے جائیں۔
کما فی الدر المختار: ( و تتم ) الھبۃ (بالقبض) الکامل (و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ، ص 690 ، ط : سعید)۔
وفی الشامیۃ: وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه الخ( كتاب الفرائض، ج 6، ص 758، ط: سعيد)۔
وفی لسان الحكام في معرفة الأحكام: وتنعقد الْهِبَة بالايجاب وَالْقَبُول لِأَنَّهَا عقد فتفتقر الى الايجاب وَالْقَبُول كَسَائِر الْعُقُود وَفِي الْبَدَائِع ركن الْهِبَة الايجاب من الْوَاهِب فَأَما الْقبُول من الْمَوْهُوب لَهُ فَلَيْسَ بِرُكْن اسْتِحْسَانًا وَالْقِيَاس أَن يكون ركنا وَبِه قَالَ زفر رَحمَه الله تَعَالَى وتتم بِالْقَبْضِ الْكَامِل فالقبض الْكَامِل فِي الْمَنْقُول مَا يُنَاسِبه الخ(الفصل التاسع عشر فی الھبۃ، ص 369، ط: البابي الحلبي)۔