وضو

وضوء کا مکمل مسنون طریقہ

فتوی نمبر :
9041
| تاریخ :
2010-07-16
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

وضوء کا مکمل مسنون طریقہ

السلام علیکم! برائے مہربانی میری راہ نمائی فرمائیں، میں اس کی مکمل وضاحت چاہتا ہوں کہ ’’مسجد میں کس طرح نماز پڑھنی چاہیۓ ؟ میں اکثر پریشان ہوتا ہوں جب مجھ سے نماز کی کوئی رکعت رہ جاتی ہے، اور میں وضو کرنے کا صحیح طریقہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں، اگر آپ مجھے اطمینان بخش جواب دیں تو میں بہت شکر گزار ہوں گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

وضو کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ صاف برتن میں پاک پانی لے کر پاک صاف اور اُونچی جگہ پر بیٹھے ، قبلہ کی طرف مُنہ کر لے تو اچھا ہے اور اس کا موقع نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، آستینیں کہنیوں سے اُوپر چڑھا لے ، پھر" بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھے اور تین بار گٹوں تک دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر تین مرتبہ کلی کرے ،مسواک کرے ، اگر مسواک نہ ہو تو (شہادت کی) انگلی سے دانت مل لے ، پھر تین بار ناک میں پانی ڈال کر بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ناک کو صاف کرے ، پھر تین مرتبہ منہ دھوئے ، منہ پر پانی زور سے نہ مارے ، بلکہ آہستہ سے پیشانی پر پانی ڈال کر منہ دھوئے ، پیشانی کے بالوں سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک منہ دھونا ضروری ہے ، پھر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھوئے، پہلے داہنا ہاتھ تین بار پھر بایاں ہاتھ تین بار دھوئے ، پھر ہاتھ پانی سے تر کرکے (بھگو کر) سر کا مسح کرے، پھر کانوں کا مسح کرے، پھر گردن کا مسح کرے، مسح صرف ایک ایک مرتبہ کرنا چاہیۓ ، پھر تین تین مرتبہ دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھوئے، پہلے دایاں پاؤں پھر بایاں پاؤں۔ (تعلیم الاسلام حصہ اول: ص۲۵)۔

اور جو شخص جماعت میں شروع سے شریک نہ ہوسکا ہو ، بلکہ اس کی کوئی رکعت فوت ہو گئی ہو ، اسے مسبوق کہتے ہیں ، اس کا حکم یہ ہے کہ امام کے فارغ ہونے کے بعد اپنی بقیہ نماز پوری کرے ، پہلی اور دوسری رکعت رہ جانے کی صورت میں الحمد کے بعد سورت بھی پڑھے ، اور جب اپنی نماز پوری کرنے کے لۓ کھڑا ہو تو پہلی رکعت میں ثناء ، تعوذ اور بسم اللہ بھی پڑھے، جبکہ نماز کے مکمل مسائل سیکھنے کے لۓ کسی مستند عالم سے رجوع کریں یا ان کی کتب کا مطالعہ کریں ، ان کتب میں سے چند یہ ہیں۔ ’’نمازِ مسنون‘‘ مصنفہ مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ، اور "نماز سنت کے مطابق پڑھیۓ"

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (و المسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها و هو منفرد) حتى يثني و يتعوذ و يقرأ اھ (1/ 596)۔
و فی الفتاوى الهندية : المسبوق من لم يدرك الركعة الأولى مع الإمام و له أحكام كثيرة . كذا في البحر الرائق . (منها) أنه إذا أدرك الإمام في القراءة في الركعة التي يجهر فيها لا يأتي بالثناء . كذا في الخلاصة هو الصحيح . كذا في التجنيس و هو الأص ح. هكذا في الوجيز للكردري سواء كان قريبا أو بعيدا أو لا يسمع لصممه . هكذا في الخلاصة فإذا قام إلى قضاء ما سبق يأتي بالثناء و يتعوذ للقراءة . كذا في فتاوى قاضي خان و الخلاصة و الظهيرية . اھ (1/ 90)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 9041کی تصدیق کریں
0     1581
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات