میری والدہ کا گزشتہ ہفتے انتقال ہو گیا۔ انہوں نے ترکے میں کچھ زیورات چھوڑے ہیں جن کی مالیت ہے،850000 (آٹھ لاکھ پچاس ہزار)۔ ہم پانچ بھائی اور ایک بہن ہیں، بہن شادی شدہ ہے۔ جن میں سے میرے ایک بھائی کا گزشتہ سال انتقال ہو گیا تھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری والدہ کے ترکے میں سے اس مرحوم بھائی کے بچوں کو حصہ ملے گا یا نہیں؟ ایک اور بات یہ ہے کہ یہ زیورات میرے والد (جو 34 سال پہلے انتقال کر گئے تھے) نے نہیں بنوائے تھے بلکہ یہ میری والدہ نے خود (یونین/اپنی آمدن سے) خریدے تھے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ والسلام۔
واضح ہو کہ جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال والدین کی زندگی میں ہو جائے تو والدین کے ترکہ میں ان کی دیگر اولاد (یعنی بیٹوں) کی موجودگی میں شرعاً اس بیٹے/ بیٹی اور اس کی اولاد کا کوئی حصہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی ان کی اولادوں کو مرحوم دادا ، دادی ، نانا، نانی کے ترکہ میں حصہ داری کا مطالبہ کا حق ہوتاہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے جس بھائی کا انتقال والدہ مرحومہ کی زندگی میں ہوگیاتھا اس کے ورثاء مرحومہ والدہ کے ترکہ میں حقدار نہ ہوں گے، اور نہ ہی شرعاً انہیں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہوگا البتہ اگر دیگر ورثاء اپنی مرضی و خوشی سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، لیکن ایسا کرنا ان کے ذمہ لازم نہیں۔
اس کے بعد و اضح ہو کہ سائل کی والدہ مرحومہ کا ترکہ اس کے موجود ہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہو گا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقدی رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلو ساز وسامان چھوڑا ہے ، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں گے کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض ہو تو وہ ادا کریں اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز و صیت کی ہو تو بقیہ مال کی ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل نو حصے بنائے جائیں، جن میں سے بیٹوں میں سے ہرایک کو دو (2) حصے اور بیٹی کو ایک (1) حصہ دیا جائے.
کما فی الشامیۃ: و شروطہ ثلاثۃ موت مورث حقیقۃ أو حکما کمفقود أو تقدیرا کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقتا أو تقدیرا کالحمل و العلم بجھۃ إرثہ الخ ( کتاب الفرائض ج:6،ص:758،ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: فالأقرب يحجب الأبعد كالابن يحجب أولاد الابن والأخ لأبوين يحجب الإخوة لأب ومن يدلي بشخص لا يرث معه إلا أولاد الأم الخ (الباب الرابع فی الحجب، کتابالفرائض، ج:6، ص: 452، ط: ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2