محترم مفتی صاحب، السلا م علیکم!
بعد از سلام عرض یہ ہے کہ ہماری کل ملکیت 2 گھر ہیں، ایک کراچی میں ہے، اور ایک سوات میں ہے، اس کے علاوہ سونا ساڑھے 21 تولہ ہے، نقد 3 لاکھ روپے ہیں، میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، والدہ حیات ہے، ہم چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، مہربانی فرماکر وراثت تقسیم کرنے کا طریقہ کار بتادیں، دادا، دادی کا انتقال پہلے ہوچکا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجود ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل چھیانوے(96) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو بارہ(12) حصے، اور مرحوم کے بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ(14) حصے، اور بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات(7) حصے دیے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2