حضرت مجھے ایک مرض ہے کہ مجھے پیشاب سے فراغت صحیح نہیں ہوتی حالانکہ میں قطرے نکالنے کے لئے بہت دیر حمام میں لگا دیتا ہوں، یعنی کھڑے ہوکر دائیں ٹانگ بائیں پر اور بائیں دائیں پر رکھ کر حرکت دیتا ہوں تاکہ ممکنہ قطرے نکل جائیں ، لیکن وضو کرنے کے بعد بعض اوقات قطرہ محسوس ہوتا ہے جلن کے ساتھ، میں بہت پریشان ہوں اس لئے امامت میں بھی آگے نہیں بڑھتا ہوں ، میرے بارے میں مشورہ دیں میں کیا کروں؟
سائل کو چاہیے کہ وضوء کرنے سے پہلے اچھی طرح اطمینان کرلے کہ پیشاب کے قطرے نکلنا بند ہوگئے ہیں تب وضوء کرکے نماز پڑھ لے تاہم اگر وضوء کرلینے کے بعد واقعتاً کوئی قطرہ نکلا ہوتو وضوء ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ وضوء کرنا لازم ہوگا اور اگر اس سلسلہ میں سائل کسی ماہر معالج سے بھی رجوع کرلے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
کما فی الدّر المختار: یجب الاستبراء بمشی أو تنحنح أو نوم علی شقه الأیسرو یختلف طباع الناس الح، وفی الشامیة تحته: ولذا قال الشرنبلالی یلزم الرجل الاستبراء حتی یزول أثر البول ویطمئن قلبه (الیٰ قوله) (قوله أو تنحنح) لأن العروق ممتدۃ من الحلق الذکر وبالتنحنح تتحرک و تقذف ما فی مجر البول اھ(ج۱، ص۳۴۴)