بخدمتِ جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ازسلام عرض ہے کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، میری والدہ کے پاس تقریباً چھ سے سات تولہ سونا تھا ،اس میں تین تولہ سونا میں نے بنوا کر والدہ کو گفٹ دیا تھا اور باقی تقریباً چار تولہ سونا میرے بڑےبھائی نے بطور تحفہ والدہ کے لیے بنوایا تھا ،ہم تین بہنیں اور چار بھائی ہیں ،اب یہ سارا سونا میرے بڑےبھائی کے پاس ہے اور وہ یہ سونا کسی بہن اور بھائی کو نہیں دے رہا اور کہتا ہے کہ یہ میرا ہے ۔لہذا آپ سے درخواست ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں آپ مفتیانِ کرام ہمیں سمجھائیں اور یہ بتائیں کہ اس میں تین بہنوں اور چار بھائیوں کا حق بنتا ہے یا نہیں ؟
نوٹ:ہم سب بھائی اور بہنیں شادی شدہ ہیں اور مرحومہ کےوالدین اور شوہر کا پہلے انتقال ہوگیاتھا۔
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کسی کو کوئی چیز ہبہ کر دےاور ہبہ کرتے وقت اس چیز کا قبضہ بھی موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہو) کو دیدےتو شرعاً ایسا ہبہ صحیح اور مکمل ہو جاتا ہے اور وہ چیز واہب کی ملکیت سے نکل کر موہوب لہ کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اور اس کے بھائی نے اپنی والدہ کو سونا بنوا کر گفٹ کرکے ان کے قبضہ و تصرف میں دے دیا تھا تو شرعاً وہ سونا والدہ کی ملکیت بن چکا ہے۔ چنانچہ اب والدہ کے انتقال کے بعد یہ سونا ان کے ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کیا جائے گا،(جیساکہ آگےآرہاہے)۔
چنانچہ مذکور بھائی کا دیگر ورثاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر سونے پر قبضہ کر کے اسے اپنی ملکیت شمارکرناشرعاً جائز اوردرست نہیں،جس پروہ سخت گناہ گارہورہاہے،اس پرلازم ہے کہ وہ اس سونے کوبھی والدہ مرحومہ کے دیگرترکہ میں شامل کرکے تمام ورثاءمیں تقسیم کردےاوراپنے اس فعل پرندامت کے ساتھ بصدق دل توبہ واستغفارکرے اورباقی بھائی،بہنوں کوجلدازجلدان کاحقِ شرعی اداکرکے دنیوی واخروی مؤاخذہ سے سبکدوشی کی فکر کرے، بصورت دیگرباقی ورثاء ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے بھی مجازہیں۔
اس کےبعدواضح ہوکہ سائل کی والد ہ مرحومہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال مذکور سونےسمیت جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا، چاندی، زیورات، نقدر قم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل گیارہ (11) حصے بنائےجائیں، جن میں سے مرحومہ کے چاروں بیٹوں میں سے ہر ایک کودو(2)حصے، جبکہ تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کوایک(1) حصہ دیاجائےگا۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامةالخ (باب الوصایا، الفصل الثالث،ج:1،ص: 266،ط: قدیمی كتب خانه)۔
وفی الدر المختار: (و تتم)الھبۃ بالقبض الکامل(ولو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولاً بہ)الخ (کتاب الھبۃ، ج: 5،ص: 690، ط: سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0