السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! پینشنر کی وفات کے بعد پاکستانی قوانین کے مطابق پینشنر کی بیوہ پینشن کی حقدار ہوتی ہے ، خاندان میں پنشن کے حصول کا مطالبہ اگر دوسرا شخص کرے تو اس کا کیا حکم ہوگا ؟ چونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسی صورتحال میں بہن بھائیوں میں جھگڑے والی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے ۔ شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ ملازم کے انتقال کے بعد ادارے کی طرف سے ملنے والی پیشن چونکہ مرحوم کا ترکہ نہیں ، بلکہ ادارہ کی طرف سے پسماندگان کے ساتھ تبرّع و احسان ہوتا ہے ،اس لئے ادارہ اپنے ضابطے کے مطابق مرحوم کى پنشن کی رقم کے لئے جس شخص کو نامزد کر دے ، وہی اس کا حقدار ہوگا ،چاہے وه بىوه ہو ىا گھر كا كوئى اور فرد، دیگر ورثاء کا اس میں حصہ داری کا دعوی کرنا شرعاً درست نہیں ، البتہ جس شخص کو نامزد کر ديا گيا، اگر وه اپنی خوشی و رضامندی اور بلا جبر واکراہ اپنے بیٹوں،بیٹیوں يا كسى رشتہ دار کواس پنشن میں سے کچھ دینا چا ہے، تو اس کا اسے اختیار ہے، مگر ایسا کرنا اس پر لازم نہیں۔
كما في البحر الرائق: قال رحمه الله (يبدأ من تركة الميت بتجهيزه) المراد من التركة ما تركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه. [ج:8 ص:557 ط: دار الكتاب الاسلامى]
وفی بدائع الصنائع: لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «عليه السلام: من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، الله سبحانه تعالى أعلم. [ج:7 ص:57 ط: سعيد]
وفي العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: قال بيري زاده القول للمملك في جهة التمليك أي فالقول قول الدافع بأي جهة دفع. [ج:2 ص:222 ط: دار المعرفة]
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1