السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! میرا گھر / دکان تقریباً 1 مرلہ یا 1.25 مرلہ ہے ۔اسکو میں نے فروخت کر دیا۔ اس کی قیمت 73 لاکھ روپے ہیں. ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں، ہر ایک بھائی پر ایک بہن کا حصہ ہے ۔ میرے دو بھائیوں نے ابھی تک ان کو حصہ نہیں دیا۔ اگر میں ایک بہن کا حصہ تینوں پر تقسیم کر لوں تو جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو کتنا کتنا دینا ہوگا ۔ پھر جو باقی بچیں تو ان میں ہم ماں باپ اور (2) بیٹے اور (5) بیٹاں ہے ۔ ان کا جتنا بھی حصہ بنتا ہے تو مجھے تفصیل سے آگاہ کریں؛ کیونکہ میرا بڑا بیٹا مجھ سے الگ ہو گیا ہے اور اپنا حصہ مانگ رہا ہے ، تو گھر والوں سب کا یہ مشورہ ہے کہ اسکو اپنا حصہ دے دیں۔ تاکہ آئندہ کیلئے اُس کا کوئی قرض نہ ہو۔ اس لیئے اس کا جو حق بنتا ہے ، مجھے واضح کریں۔ منجانب :- ظریف خان سرف والا، ہائی سکول روڈ تخت بھائی مردان. براه کرم Verified صفحہ پر بھیجیں، بڑی مہربانی ہوگی.
سائل نے اس بات کی صراحت نہیں کی، کہ ان کے بہن بھائیوں کے درمیان والدین مرحومین کا تركہ شرعى ضابطے کے مطابق تقسیم ہوا ہے یا نہیں، اگر تقسیم ہوا ہو تو اس کے نتیجہ میں سائل کے ذمہ ایک بہن کا حصہ حوالہ کرنا لازم ہے، تا ہم اگر بھائیوں نے والدین کا تركہ تین حصے کر کے ایک ایک بھائی نے ایک ایک بہن كاشرعى حصہ حوالہ کرنا اپنے ذمہ لیا ہو، اور ورثاء بھی فقط تین بھائی اور تین بہنیں ہوں تو شرعا بھی اس طرح تقسیم کر کے ہر بھائی کا ایک ایک بہن کو حصہ دینا درست ہے اور جو بھائی حسب معاہدہ جس بہن کو حصہ دے دیتا ہے وہ عند اللہ بری الذمہ ہوگا، تا ہم اگر سائل کو دیگر بھائیوں پر بہنوں کو ان کے حصص دینے کا یقین نہ ہو تو اسے چاہیے کہ ایک بہن کو مکمل حصہ (جو کہ سائل کے کل حصہ کا ایک تہائی %33.33 بنتا ہے ) دینے کے بجائے وہ یہ رقم تین بہنوں پر برابر تقسیم کرے، تاکہ سائل کے پاس ہر بہن کا حصہ اس تک پہنچ سکے۔ جبکہ اس کے بعد بقیہ بچ جانے والی رقم اور جائیداد سائل کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتاہے ،وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتا ہے ، اس پر اپنی حیات میں اس کی تقسیم بھی لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے ، بیٹی کےلئے جائیداد میں حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل ہوتا ہے ، لہٰذا سائل کے ذمہ بھی اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ، اور نہ ہی سائل کی اولاد میں سے کوئی سائل سے اس کی جائیداد میں حصہ داری یا فروخت شدہ مکان کی قیمت کی مد میں حاصل شدہ رقم کا مطالبہ کرسکتاہے،البتہ اگر سائل اپنی صحت والی زندگی میں بلاکسی جبر و اکراہ کے محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال و جائیداد وغیرہ اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً یہ بھی جائز ہے، لیکن یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ ھبہ اور گفٹ کہلاتا ہے ، جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک محتاط اندازہ کے موافق اپنی بقیہ زندگی اور بیٹوں کی شادی کے اخراجات کےلئے جو کچھ رکھنا چاہے، وہ رکھ کر اور اپنی بیوی کو جو کچھ دینا چاہے، وہ دے کر بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تاکہ یہ ھبہ شرعاً بھی درست اور تام ہوجائے ، محض کاغذوں میں نام کردینا کافی نہیں ، پھر بہتر یہ ہے کہ اس ھبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں، کسی کو زیادہ کسی کو کم نہ دے ، البتہ کسی کی خدمت گزاری ، محتاجی یا دین داری وغیرہ کی بناء پر اسے دوسروں کے مقابلہ میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا اسے اختیار ہے ، مگر بلا وجۂ شرعی کسی کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے ، کیونکہ یہ گناہ کی بات ہے ۔
كما في رد المحتار: أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى (كتاب الوقف، ج: 4، ص: 444)
وفي بدائع الصنائع: وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: 90] . (وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى (إلى قوله) ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة. (كتاب الهبة، ج: 6، ص: 127)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2