محترم مفتی صاحب! والد محترم کی ملکیت میں جو مکان ہے اگر اس کو فروخت کر دیں تو اس کی جتنی رقم ہے وہ والد صاحب پر خرچ ہوگی، جبکہ باقی ماندہ ساری رقم مدنی مسجد کی تعمیرات اور ضروریات پر خرچ کر دی جائے گی ،اور کچھ رقم والد صاحب کے فرض جماعت چھوٹنے کی فدیہ میں خرچ کیا جائے گا، اور باقی ماندہ رقم مدنی مسجد میں خرچ کیا جائے گا، یہ سب باتیں والد صاحب کی بیماری کا احساس کرتے ہوئے بولی گئی ہیں، والد صاحب کافی عرصے سے دل کے مریض تھے لیکن اس وقت طبیعت کچھ زیادہ خراب تھی ۔
ہمارے والد محترم کا انتقال ہوگیا ہے، ہم کل پانچ بہن بہائی ہیں ،جبکہ کچھ جائیداد والد محترم کی ملکیت میں ہے مکان کی صورت میں ،اب سوال یہ ہےکہ مذکورہ بالا وصیت کس حد تک معتبر ہے ؟اور مرحوم والد کا ترکہ انتقال کے وقت موجود ورثاء( تین بیٹوں اور دو بیٹیوں )میں کس طرح تقسیم ہوگا؟براہِ کرم شریعت کے مطابق جواب عنایت فرمائیں۔
نوٹ: مذکور وصیت والد صاحب مرحوم کی زندگی میں ہی ان کےکہنے پر سب بہن بھائیوں کے سامنے تحریر کی گئی جس میں فوت شدہ نمازوں کے فدیہ کی ادائیگی،اور باقی ماندہ ترکہ کو مدنی مسجد کی تعمیر میں خرچ کرنے کی وصیت کی گئی ہے،اور ہم بہن بھائیوں نے اس پر رضامندی پر اظہار کیاتھا۔
واضح ہو کہ وصیت چاہےحالتِ صحت وتندرستی میں ہو یا حالتِ بیماری اور مرض الموت میں ہو ،بہر دوصورت ثلث ِ مال یعنی کل مال کے ایک تہائی تک معتبر ہوتی ہے، اس سے زائدمعتبر نہیں ہوتی ،تاہم اگرتمام ورثاء بشرطیکہ ان میں کوئی نابالغ یا غائب نہ ہو، اجازت دیدیں تو ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت بھی معتبر مانی جائیگی ۔لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ ورثاء مذکور وصیت پر راضی ہیں، تو اس کے مطابق عمل کرکے مرحوم کی تجہیز وتکفین اور قرضوں کی ادائیگی کے بعد پہلے بقیہ رقم فوت شدہ نمازوں کے فدیہ اور اس کے بعدباقی ماندہ رقم مدنی مسجد کی تعمیر میں خرچ کی جائے، وگرنہ بقیہ مال کے ایک تہائی کی حد تک مذکور وصیت معتبر ہوگی اور باقی ماندہ مال ترکہ شمار ہوکر مرحوم کے ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسم ہوگی۔
اس کے بعد واضح ہوکہ سائل کےوالد ِ مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیرِ منقولہ مال وجائیداد سونا ، چاندی ، نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں،اس کے بعد دیکھیں کہ مرحوم کےذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ،اس کے بعد مرحوم کی طرف سے فوت شدہ نمازوں اور مدنی مسجد کی تعمیر میں ایک تہائی (1/3) کی حد تک رقم خرچ کی جائے، اس کے بعد باقی ماندہ ترکہ کے کل آٹھ(8) حصے بنائے جائیں جن میں سے ہر بیٹے کو دو(2) حصے،جبکہ ہر بیٹی کو ایک(1) حصہ دیا جائے ۔
کما فی الھدایۃ: ولا تجوز بما زاد على الثلث" لقول النبي عليه الصلاة والسلام في حديث سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه: "الثلث والثلث كثير" بعد ما نفى وصيته بالكل والنصف، ولأنه حق الورثة الخ( کتاب الوصایا،باب فی صفۃ الوصیۃ، ج4، ص513، ط:دار احیاء التراث العربی)۔
وفی الھندیۃ: ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.الخ( کتاب الوصایا،الباب الاول،ج6،ص90،ط: ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2