میری والدہ کا میرے نانا سے پہلے انتقال ہو گیا ہے، تو کیا نانا کی جائیداد میں میرا حصہ ہے یا نہیں، میری نانی ابھی حیات ہیں
واضح ہو کہ شریعت میں مورث کےزندگی میں فوت ہو نے والا وارث کاحق میراث میں چونکہ حصہ نہیں ہوتا، اس لیےسائل کی والدہ کا نانا کے میراث میں حصہ نہ ہوگا اور نہ ہی ان کے واسطے سے سائل کا کوئی حصہ ہو گا، البتہ اگردیگر ورثاء انہیں اپنی رضامندی و خوشی سے اپنے حصص میں سے کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے باعث اجرو ثواب بھی ہے ، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں ۔
وفي حاشية ابن العابدين :وأركانه ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل الخ(ج: ٦ كتاب الفراءض ص ٧٥٨ ناشر سعيد )
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2