السلام علیکم!
اگر کوئی کمپنی رجسٹرڈ نہ ہو تو کیا اس کاروبار میں وراثت نہیں بنتی؟
والد صاحب کی کمپنی رجسٹرڈ نہیں تھی، پر سارا کام اسی کمپنی سے ہوتا تھا۔ کاروبار سالہا سال چلتا رہا۔ اسی نقصان کے کاروبار کو بھائیوں نے والد صاحب کا ہی ترکہ لگا کر اور مال ادھار پر لے کر ( کاروبار کی نوعئیت ادھار کی ہی تھی) آگے بڑھایا۔ تو وراثت کاروبار میں کیوں نہیں ہو گی؟؟ کیا اس کاروبار کی گڈ ول نہیں ہو گی؟
تو کیا اگر کسی کی پرچون کی دکان ہو وہ بھی رجسٹرڈ نہیں ہوتی تو کیا اس کی بھی وراثت نہیں بنے گی؟
برائے مہربانی اسکا جواب دیجئیے۔
جزاک اللہ۔
صورت مسؤلہ میں کمپنی کے رجسٹرڈ نہ ہونے کی وجہ سے وراثت پر کوئی فرق نہیں پڑےگا ،بلکہ مورث کے انتقال کے بعد اس نے جو مال چھوڑا ہو منقولہ و غیر منقولہ وہ سارا کا سارا مال میت کا ترکہ شمار ہوگا، اور اس میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے، لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کے والد مرحوم کے انتقال کے بعد مرحوم نے جو مال چھوڑا ہے غیر رجسٹرڈ شدہ کمپنی وغیرہ کی شکل میں اس میں وراثت جاری ہوگی،البتہ بعد میں بھائیوں نے جو اضافہ کیا اس کی مختلف نوعیت ہونے کی حیثیت سے اس کے احکام بھی مختلف ہوتے ہیں ،اس لیے اس کی مکمل تفصیل بیان کرنے کے بعد ہی اس متعلق حکم شرعی سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔
کما فی تکملۃ حاشیۃ ابن عابدین: لان التركة في الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.واعلم أنه يدخل التركة الدية الواجبة بالقتل الخطأ أو بالصلح عن العمد أو بانقلاب القصاص مالاً بعفو بعض الأولياء، فتقضى منه ديون الميت وتنفذ وصاياه كما في الذخيرة اھ(کتاب الفرائض،ج: 7،ص: 759،مط: سعید۔)
و فی الموسوعۃ الفقہ علی المذاھب الاربعۃ: التركة: هي جميع ما يخلفه الميت بعد موته، من أموال منقولة كالذهب والفضة وسائر النقود والأثاث، أو غير منقولة كالأراضي والدور وغيرها، فجميع ذلك داخل في مفهوم التركة، ويجب إعطاؤه لمن يستحقه اھ(کتاب الفرائض، تعريف التركة،ج: 24،ص: 469،مط: دار التقوی۔)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2