السلام علیکم
عرضِ خدمت ہے کہ ہم 4 بہنیں اور ہم سب سے چھوٹا ایک بھائی ہے ،مرحوم والد صاحب نے اپنی زندگی میں بہت پہلے 1998 میں ایک مکان ہماری سب سے بڑی بہن کے نام کردیا تھا اس کے بعد انتقال سے چند سال پہلے گاؤں کی تمام زمین ہمارے چھوٹے بھائی کے نام اس کی شادی سے پہلے کردی تھی تاکہ خواتین کو گاؤں جانا آنا نہ پڑے، والد صاحب کے انتقال کے بعد ہماری والدہ محترمہ ہی ابو کی رقم سے گھر کے امور و اخراجات چلاتی تھیں اور ہمارے بھائی کی شادی بھی انہی کی بقایا رقم سے کروائی تھی۔ والدہ محترمہ کے انتقال کے بعد گھریلو مسائل پیش آنے پر ہماری بڑی بہن نے گھر فروخت کردیا اور تمام رقم برابر تقسیم کردی۔اب معلوم ہوا ہے کہ ہمارا بھائی گاؤں کی زمین فروخت کرنا چاہ رہاہے اور وہ اس مکمل زمین کو اپنی ملکیت سمجھ کر اس میں سے کسی بھی قسم کا حصہ دینے کو تیار نہیں ہے، مزید اس زمین کا سالانہ ٹھیکہ بھی ہماری بڑی بہن وصول کرتی تھیں اس معاملے میں اس کا کوئی تصرف نہیں تھا جبکہ ہمارے بھائی نے پوری زندگی آج تک نہ ہی کوئی نوکری کی اور نہ ہی کوئی کاروبار کیا، گھر اور گاؤں کی کچھ موروثی زمین کے علاوه مکمل زمین ہمارے والد محترم نے خریدی تھیں ،اور بھائی کے نام اس لیے کی تھی کہ لین دین کے معاملات مرد حضرات کرتے ہیں۔
برائے مہربانی شریعت اس بارے میں کیا فیصلہ دیتی ہے اس کے لیے آپ سے رجوع کررہے ہیں، جس کے لیے ہم آپ کے بہت مشکور و ممنون ہوں گے۔
واضح ہو کہ کسی چیز کو محض کسی کے نام کر دینے سے شرعاً وہ اس کی ملکیت نہیں بن جاتی، جب تک اسے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ بھی نہ دے دیا جائے کہ وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کرے۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائلہ کے مرحوم والد نے مکان بڑی بیٹی کے اور گاؤں کی زمین بیٹے کے نام صرف کاغذی کارروائی کے طور پر کی تھی،لیکن مکان اور زمین باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ ان کے حوالےنہیں کی تھی، بلکہ عملاً والد ہی اس کے مالک و مختار رہے، تو ایسی صورت میں وہ مکان اور زمین بدستور مرحوم والد ہی کی ملکیت شمار ہوں گے، اور ان کی وفات کے بعد ان کے ترکہ میں شامل ہو کر تمام شرعی ورثاء میں ان کے مقرّرہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گے۔
لہٰذا اگر بھائی گاؤں کی زمین فروخت کرتا ہے تو چونکہ تمام ورثاء اس میں شریک ہیں، اس لیے اس کے فروخت سے حاصل ہونے والی رقم بھی تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہوگی، جس میں بھائی کو بہنوں کے مقابلے میں دوگنا حصہ ملے گا۔بھائی کا گاؤں کی زمین کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ کر بہنوں کو ان کے شرعی حصے سے محروم کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر المختار:(و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها اھ (5/690)۔
وفی السراجية:والصنف الثالث : ینتمی الی ابوی المیت ،وهم اولاد الاخوات وبنات الاخوة وبنو الاخوة لام اه(117) ۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله: هو الإيجاب) و في خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري. (5/ 688)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2