محترم مفتی صاحب: درج ذیل صورتِ مسئلہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے، میرے والد صاحب کے دو نکاح ہوئے تھے، پہلی شادی سے ان کے دو بیٹے ہیں، پہلی بیوی میرے والد صاحب کی زندگی ہی میں فوت ہو گئی تھیں، اس کے بعد میرے والد صاحب نے دوسری شادی کی جس سے ان کے چار بیٹے پیدا ہوئے، بعد ازاں میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا، والد صاحب کے انتقال کے وقت ان کی دوسری بیوی زندہ تھیں، والد صاحب کے انتقال کے بعد وراثت کی باقاعدہ تقسیم نہیں کی گئی، اور دوسری بیوی والد صاحب کے مکان میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتی رہیں، والد صاحب کے انتقال کے تقریبا ً20 سال بعد دوسری بیوی بھی فوت ہو گئیں، اب ہم تمام ورثاء شریعت اسلامی کے مطابق وراثت تقسیم کرنا چاہتے ہیں، دریافت طلب امور:کیا پہلی بیوی (جو والد صاحب سے پہلے فوت ہو چکی تھیں) کاکوئی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟ والد صاحب کی وراثت میں پہلی اور دوسری شادی کے تمام بیٹوں کا حصہ کس طرح ہوگا؟ دوسری بیوی کو والد صاحب کی وفات کے وقت جو شرعی حصہ ملا تھا کیا وہ حصہ اب ان کی اپنی وراثت شمار ہوگا اور ان کے ورثہ میں تقسیم ہوگا؟ اس پوری صورتِ مسئلہ میں درست شرعی طریقۂ تقسیم کیا ہے؟ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی شرعی فتوی عنایت فرمائی۔ والسلام۔
جس وارث کا انتقال مورث کی زندگی میں ہو جائے وہ شرعاً اس کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں حصہ دار نہیں بنتا۔ چنانچہ صورتِ مسئولہ میں پہلی بیوی کا انتقال چونکہ مرحوم کی زندگی میں ہوگیا تھا، لہٰذا وہ اس کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہوگی، جبکہ دوسری بیوی کا انتقال مرحوم کے انتقال کے بعد ہوا ہے اس لیے وہ شوہر کے ترکہ میں سے شرعاً حصہ دار ہوگی، جس کا حصہ اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مرحوم کا ترکہ اس کے موجودہ ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائےاس ميں سے پہلی بیوی کے ہر بیٹے کو (14) حصے اور دوسری بیوی کےہر بیٹے کو (17) حصے دیے جائیں ۔
كما في رد المحتار: والمراد بالفرائض السهام المقدرة كما مر فيدخل فيه العصبات، وذو الرحم لأن سهامهم مقدرة وإن كانت بتقدير غير صريح، وموضوعه: التركات، وغايته: إيصال الحقوق لأربابها، وأركانه: ثلاثة وارث ومورث وموروث. وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه. (6/ 758)۔
وفي الفتاوى الهندية: (الباب الثالث في العصبات) وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار. (6/ 451)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2