السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ،
ہم چار بہن بھائی ہیں (تین بھائی اور ایک بہن). ہمارے والد کا انتقال والدہ کی زندگی میں ہو گیا تھا۔ ہماری والدہ کا انتقال سنہ 2005 میں ہوا، والدہ کے نام ایک گھر تھا جسے بیچ کر شرعی قانون کے مطابق رقم وارثین کو ادا کر دی گئی۔ والدہ کی کچھ طلائی چوڑیاں (16 عدد) بھی تھیں جن کی تفصیل یہ ہے: 4 عدد چوڑیاں والدہ کے استعمال میں تھیں اور والدہ کے انتقال کے بعد یہ 4 عدد چوڑیاں بڑے بھائی نے رکھ لیں اور ان کی رقم ہم وارثین کو ادا کر دی۔ 6 عدد چوڑیاں ایسی ہیں جن کا ہمیں کوئی علم نہیں، لیکن وہ بڑے بھائی کے پاس ہیں بقول بڑے بھائی کے اور کبھی بھی ہماری بھابھی کے استعمال میں نہیں رہیں۔ 6 عدد چوڑیاں ہماری والدہ کے ہاتھوں میں کُھلی تھیں اور والدہ نے ہماری بڑی بھابھی کو یہ کہہ کر واپس کر دیں کہ یہ تم رکھ لو، اب والدہ نے یہ ان کی ملکیت میں دیں یا نہیں؟ ہمیں اس کا علم نہیں،لیکن ہمارے بڑے بھائی کا کہنا ہے کہ والدہ کی ہی ملکیت ہیں اور ہماری بھابھی نے انہیں کبھی استعمال نہیں کیا۔ اب سنہ 2025 میں ہمارے بڑے بھائی کہہ رہے ہیں کہ والدہ کی جو 12 چوڑیاں تھیں، وہ والدہ کی ہی ملکیت تھی اور ان کے پاس محفوظ ہیں اور ان کی رقم انہوں نے وارثین میں ادا نہیں کی، لہذا وہ ان 12 چوڑیوں کی رقم وارثین کو دینا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے انہیں یہ کہا ہے آپ 4 چوڑیوں کی رقم میں سے وارثین کا حصہ دے چکے ہیں اور باقی 12 چوڑیوں کا ہمیں کوئی علم ہی نہیں اور اب کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہمارے ایک بھائی نومبر 2025 میں فوت ہو گئے ہیں، اس لیے ان کی رائے موجود نہیں۔ لیکن یہ بات بھی موجود ہے کہ آج تک کسی نے اُن چوڑیوں کی رقم کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ ہمارے پاس کوئی تحریر نہیں ہے۔ ہمارے بڑے بھائی کا اصرار ہے کہ وہ 12 چوڑیوں کی رقم شرعی قانون کے مطابق ہم وارثین یعنی اپنے ایک بھائی اور بہن کو جو حیات ہیں انہیں اور ایک بھائی جو فوت ہو گئے ہیں، ان کی اہلیہ کو دینا چاہتے ہیں اور اسے وہ ایک بوجھ سمجھ رہے ہیں۔ آپ مفتیانِ کرام سے گزارش ہے اس مسئلے میں راہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا ۔
صورت مسئولہ میں جن زيورات کا غالب گمان کے مطابق مرحومہ کی ملکیت ہونا معلوم ہو اور کسی اور کی طرف سےان زيورات کی ملکیت کا دعوی بھی نہ ہو اور نہ ہی زندگی میں کسی كو بطور ہبہ (تحفہ) دینا ثابت ہو، تو شرعا وه تركہ شمار ہوں گے اور تمام ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہوگا، لہذا اگر بڑے بھائی کے پاس موجود 12 چوڑیاں والدہ کی ملکیت تھیں، تو ان کی موجود قیمت لگا کر ورثاء کو ادا کرنا ضروری ہے، خواه پہلے کسی نے ان کا مطالبہ نہ بھی کیا ہو، نیز جو بھائی انتقا ل کر چکے ہیں ان کا حصہ بھی ختم نہیں ہوا ہے، بلکہ ان کے ورثاء (بیوه، اولاد) کو دیا جائے گا، البتہ اگر بالغ ورثاء اپنی خوشی سے معاف کرنا چاہيں تو مذکور بڑے بھائی سے وصول کرنے کے بعد اسے بطور ہبہ واپس کر سکتے ہیں۔
كما في الدر المختار: (صح إقراره بمال مملوك للغير) ومتى أقر بملك الغير (يلزمه تسليمه) إلى المقر له (إذا ملكه). [ط: سعيد، (5/ 588)]
وفي الدر المختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته. [ط: سعيد، (6/ 200)]
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2