بسم اللہ الرحمٰن الرحیم،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بعد از عرضِ ادب، گزارش ہے کہ ایک شرعی مسئلہ میں رہنمائی درکار ہے۔ تفصیل حسبِ ذیل ہے:
میرے والد محترم کا انتقال سن 2025ء میں ہوا۔ اپنی حیات میں، سن 2022ء میں، انہوں نے اپنا ایک رہائشی مکان باقاعدہ طور پر، مکمل ہوش و حواس میں، بغیر کسی جبر یا دباؤ کے، اپنی آزاد مرضی سے میرے نام منتقل (رجسٹرڈ) کر دیا تھا۔
اس انتقالِ ملکیت کی وجہ یہ تھی کہ میری ایک بہن، جن کا سن 2012ء میں قتل ہو گیا تھا، ان کا ایک بیٹا ہے جو اس وقت کم عمر تھا۔ اس بچے کی مکمل کفالت، تعلیم، رہائش اور دیگر تمام ضروریات کی ذمہ داری از ابتدا میرے ذمہ ہے، اور وہ مستقل طور پر میرے ساتھ ہی مقیم ہے۔ علاوہ ازیں، والد محترم بھی اکثر و بیشتر میرے پاس قیام فرمایا کرتے تھے۔ والد محترم نے ان تمام حقائق اور مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اپنی زندگی میں ہی مذکورہ مکان میرے نام منتقل کر دیا اور مجھ سے یہ فرمایا کہ انہیں اس بات پر پورا اعتماد ہے کہ میں ان کے بعد اس معاملے میں حکمت، عدل اور دیانت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔
مذکورہ مکان کے علاوہ، والد محترم کے ترکہ میں ایک 10 مرلہ کا پلاٹ اور کچھ نقد رقم بھی موجود ہے۔
اب والد محترم کے انتقال کے بعد دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
کیا وہ رہائشی مکان، جو والد محترم نے اپنی زندگی میں مکمل ہوش و حواس کے ساتھ، بطور ہبہ، میرے نام منتقل کر دیا تھا، شرعاً ترکہ میں شامل ہوگا؟
یا یہ مکان چونکہ انتقالِ ملکیت والد محترم کی حیات میں مکمل ہو چکا تھا، اس لیے ترکہ کا حصہ نہیں بنے گا، اور وراثت کی تقسیم صرف باقی جائیداد (یعنی پلاٹ اور نقد رقم) تک محدود رہے گی؟
نیز اگر اس معاملے میں کسی اضافی شرط (مثلاً قبضہ، مساوات بین الاولاد، یا نیتِ ہبہ) کا شرعاً اعتبار ہو تو اس کی بھی وضاحت فرما دی جائے۔
براہ مہربانی قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں اس مسئلہ کا مدلل جواب مرحمت فرمائیں، تاکہ تمام ورثاء کے حقوق ادا ہو سکیں اور کسی قسم کی شرعی کوتاہی نہ رہ جائے۔
والسلام
صورت مسئولہ میں اگر سائل کواس کےوالدمرحوم نےاپنی صحت والی زندگی میں مذکورمکان پرکاغذی کاروائی کےساتھ باضابطہ مالک وقابض بھی بنا دیا تھا بایں معنی کہ سائل کووالدمرحوم کی زندگی میں اس مکان کوفروخت کرنے یا اس سے حاصل ہونے والے منافع مثلاً کرایہ وغیرہ سے مستفید ہونے کا پوراحق حاصل تھا، تواس صورت میں چونکہ یہ ہبہ تام ہوکر سائل اس مکان کا مالک بن چکاہے ، لہذایہ ترکہ میں شمارنہیں ہوگا اوردیگرورثاءکواس میں حصہ داری کےمطالبہ کاحق حاصل نہیں ہے، لیکن اگروالد مرحوم نےمذکورمکان محض انتظامی امور میں معاونت اوردیکھ بال کی غرض سے صرف کاغذات میں سائل کےنام کیاہو،حقیقی طورپرسائل کو اس مکان پرمالکانہ تصرف واختیار نہ دیا گیاہو تو وہ مکان بدستور والدمرحوم کی ملکیت شمار ہوگااوروالدمرحوم کی باقی تمام جائیدادکےساتھ شامل کرکےاس کوبھی سب ورثاء کےدرمیان بحسبِ حصص شرعیہ تقسیم کرنا لازم و ضروری ہے۔
کمافی الدرالمختار:( وتتم)الهبة( بالقبض)الكامل(ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به)والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔الخ(ج:5،كتاب الهبة، ص:690،مط:سعید)
وفی الفتاوى الهندية: ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغیرالموھوب اھ (ج:4،ص:374،مکتبۃماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2