اسلام علیکم رحمۃ اللّٰہِ وبرکاتہ ! امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہونگے،
میرا سوال ایک مشہور کہاوت کے بارے میں ہے، کہاوت یہ ہے کہ "نا زمین پھٹی نا آسمان گرا" یہ کہاوت لوگ اکثر اس وقت بولتے ہیں جب کسی جگہ پہ ظلم و جبر زیادتی کا واقعہ ہو ،یہاں تک کہ یہ کہاوت خبروں میں بھی سننے کو ملتی ہے، جب ایک خبر میں کسی سنگین واقعے کا ذکر ہو کہ فلاح فلاح جگہ پہ باپ نے غربت سے تنگ آکر اپنے بچوں کو قتل کردیا ، شوہر نے بیوی کو یا بیوی نے شوہر کو قتل کردیا ، جائیداد کے تنازعہ پہ باپ کا قتل ہوگیا وغیرہ ، لیکن میری سمجھ میں یہ کفریہ کہاوت ہے، کیونکہ میں نے جو اس کے معنی تلاش کیے ہیں وہ یہ ہیں کہ جب ظالم مظلوم پہ ظلم کررہا تھا تو اللہ کدھر تھا اللہ کی غیرت کہاں چلی گئی تھی اللہ نے زمین کو کیوں نہیں پھاڑا آسمان کیوں نہیں گرایا تو اس وجہ سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ کفریہ کہاوت ہے ،تو آپ قرآن و سنت کی روشنی میں مجھے اس سوال کا جواب دیجئے کہ کیا اس کہاوت کو کفریہ کہاوت کہنا صحیح ہے یا غلط ؟
واضح ہوکہ فقہاء کی تصریحات کے مطابق جب کسی کے کلام میں کفریہ مفہوم کےعلاوہ صحیح مفہوم کا بھی احتمال پایا جاتاہو تو ایسی صورت میں اس کلام کو کفر پر محمول کرنے کی بجائے دیگر صحیح احتمالی معانی پر محمول کیا جائے گا، چنانچہ مذکور جملہ "نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا" اس کا مطلب عام طور پر چونكہ ىہ ہوتاہے كہ اس واقعہ كے نتىجے مىں کوئی غیر معمولی ىا غیر متوقع صورتحال پیدا نہىں ہوئی، حالانکہ انسانیت کا تقاضا ىہ تھا كہ ایسا ضرور ہوتا، لہذا اس معنی کے احتمال کی وجہ سے ان جملوں کو کفریہ قرار نہیں دیا جاسکتاہے، تاہم ایسے کلمات جس سے کسی بھی درجہ میں اللہ تعالی سے بدگمانی کا وہم ہوتا ہو، ان سے بھی احتراز کرنا چاہئے ۔
كما في البحر الرائق: اعلم أن مدار أمور الدين متعلق بالاعتقادات والعبادات والمعاملات والمزاجر والآداب فالاعتقادات خمسة أنواع: الإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر. [كتاب الطهارة، ج:1 ص:7 ط: دار الكتاب الاسلامى]
وفي الفتاوى التاترخانية: يجب أن يعلم أنه إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير ووجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسيناً للظن بالمسلم، ثم إن كانت نية القائل الوجه الذي يمنع التكفير فهو مسلم، وإن كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير لا تنفعه فتوى المفتي ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك وتجديد النكاح بينه وبين امرأته. وفي الظهيرية»: وإن لم تكن له نية حمل المفتي كلامه على وجه لا يوجب التكفير ويؤمر بالتوبة والاستغفار واستجداد النكاح. [كتاب أحكام المرتدين، فصل في إجراء كلمة الكفر مع علمه أنها كلمة الكفر أو من غير علمه، وفي الخطأ في ذلك،ج:7 ص:271 ط: رشيدية]
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1