اگر میت کے 3 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہوں، اور دو گھر ہوں جن کی قیمت 3 کروڑ ہو ،تو میراث کی تقسیم کس طرح کی جائیگی؟
اگر کسی مرد یا خاتون کا انتقال ہوجائےاور اس کے ورثاء میں فقط تین بیٹے اور چار بیٹیاں موجود ہوں ، ان کے علاوہ اس کا کوئی شرعی وارث (والدین،شوہر یا بیوی)نہ ہو ، تو ایسی صورت میں اس کا ترکہ ان کے بیٹوں اوربیٹیوں درمیان اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ میت نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و جائیداد ،سونا ، چاندی، زیورات ، نقدرقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہے ، وہ سب میت کا ترکہ ہے ، جن میں سے سب سے پہلے میت کے کفن و دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگرمرحوم یا مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہوتووہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم یامرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل (10)حصے بنائے جائیں، جن میں سے دو حصے ہر بیٹے کوجبکہ ایک حصہ ہربیٹی کو دے دیا جائے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2