ہم تین بھائی ہیں ، والد صاحب بڑے دو بھائیوں کو علیحدہ گھر لے کر دے چکے ہیں اور وہ ان کے نام پر ہے، میں اپنے والد صاحب کے ساتھ رہتا ہوں، والدہ کا انتقال ہو چکا ہے، یہ گھر والد اور والدہ کے نام پر ہے، اس گھر میں میرے پیسے بھی ملے ہوئے ہیں، والد صاحب کہتے ہیں کہ یہ گھر میرا ہے، کیونکہ اس میں میری بیوی کے زیور کا پیسہ بھی شامل ہے، پر وہ کہتے ہیں کہ وہ زندگی میں یہ گھر میرے نام نہیں کریں گے، ان کی وفات کے بعد یہ گھر میرے نام پہ خود بخود ہو جائے گا، وہ اپنے بڑے دونوں بیٹوں کو یہ بول کر جائیں گے کہ یہ گھر میرا ہے، ایسے میں ان کی وفات کے بعد یہ گھر میرے نام پہ ہوگا یا میرے بڑے دو بھائی اس میں حصے دار ہونگے ؟
گھر لیتے وقت یہ والد اور والدہ نے بولا تھا کہ جو بیٹا ساتھ رہے گا، گھر اس کا ہے۔
واضح ہو کہ ہبہ کے تام ہونے کے لیے صرف زبان سے کہنا کافی نہیں ،بلکہ مالکانہ تصرف کے ساتھ قبضہ دینا بھی شرعاً ضروری ہے ،لہذا صورت مسؤلہ میں جب تک والد صاحب اپنی زندگی میں یہ گھر مکمل طور پر سائل کے حوالے نہ کریں اور سائل اس گھر پر قبضہ نہ کرے، اس وقت تک یہ گھر سائل کا نہیں ہوگا، بلکہ والد صاحب کی وفات کے بعد یہ گھر ان کا ترکہ شمار ہوکر تمام زندہ ورثاء میں حسب حصص شرعی تقسیم کرنا شرعاً ضروری ہوگا ،
کما في الهداية شرح البداية: الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام تهادوا تحابوا وعلى ذلك انعقد الإجماع وتصح بالإيجاب والقبول والقبض أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد والعقد ينعقد بالإيجاب والقبول والقبض لا بد منه لثبوت الملك اھ (3/ 224)۔
و فی الھندیہ: "ومنها: أن يكون الموهوب مقبوضًا حتى لايثبت الملك للموهوب له قبل القبض،ج: 6،ص: 123۔)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2