کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ایک عورت کا انتقال ہوگیا ،بوقت انتقال ورثاء میں ایک بھائی موجود تھا ،اس بھائی کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا ،اس کے بعد پھر اس کے بھائی کا انتقال ہوا ،ورثاء میں بیوہ،پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں موجودہیں،نیز اس خاتون کے دو لے پالک بھی ہیں ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں شریعت کے مطابق مرحومہ کا ترکہ کس طرح تقسیم کیاجائیگا؟اورکیا لے پالک اولاد کا حصہ بنتا ہے؟
گود لیا ہوا بچہ گود لینے سے حقیقی اولاد کے طرح وارث نہیں بنتا، بلکہ وہ اپنے حقیقی والد کے ترکہ سے ہی حصہ پاتا ہے، تا ہم اگر میت کے بالغ ورثاء اپنے حصہ میں سے کچھ دینا چاہیں تو انہیں اس کا اختیار ہے،لیکن ایسا کرنا ان پر شرعاً لازم نہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحومہ کا ترکہ اس کے موجودہ تمام ورثاء میں اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد، سونا، چاندی، زیورات، نقد رقم، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، وہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحومہ کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل چھیانوے (96)حصے بنائے جائیں جس میں سے مرحومہ کی بھابی(بھائی کی بیوہ) کو بارہ(12)حصے ،ہر بھتیجے کو چودہ (14)حصے ،اور ہر بھتیجی کو (7) حصےدیے جائیں۔
کما فی التنزیل العزیز : ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمۡ تَعۡلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ(الاحزاب،ایۃ:5)
وفی شرح المجلۃ: و من ھنا ما فی المادۃ 1192 ان کلا یتصرف فی ملکہ کیف شاء(ج:1 ،ص:100 :ط:دارالکتب العلمیہ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2