بخدمت جناب مفتی صاحب!
میرے شوہر مرحوم ۔۔۔مرحوم کی ذاتی ملکیت قصبہ موڑ پر واقع اسّی (80)گز کا مکان ہے ،جس کی قیمت موجودہ وقت کے مطابق تیس لاکھ (3000000)ہے ، میرے شوہر مرحوم کے تین بھائی ،ایک بہن،اور دو بیٹیاں ہے ،دیوروں کے نام: ۔۔۔۔۔،بیٹیوں کے نام :۔۔۔ ،بیوہ کا نام:۔۔،
مفتی صاحب !میرے شوہر مرحوم کے بہن اور بھائی حصہ مانگ رہے ہیں ،آپ شریعت کے مطابق فتوی نکال کردیں ،تاکہ میں اپنے دیوروں ،نند اور بیٹیوں کو ان کا حصہ دوں فتوی کے مطابق۔شکریہ
سائلہ کے مر حوم شوہر کے تر کہ میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث ( کفن دفن کے متوسط مصارف ،واجب الادا قرض ،اور بیوہ کے مہر کی ادائیگی، اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد ) اگر یہی رقم " تیس لاکھ (30,000,00)"رو پے بچتے ہوں اور مرحوم کے ورثاء بھی یہی ہوں ،ان کے علاوہ کوئی وارث موجود نہ ہو ، تو مذکور رقم میں سے مرحوم کی بیوہ کو تین لاکھ پچھتر ہزار (375000)روپے،اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو دس لاکھ (10,000,00)روپے،اور ہر بھائی کو ایک لاکھ اٹھہتر ہزار پانچ سو اکہتر(178571)روپے،جبکہ شوہر مرحوم کی بہن کو نواسی ہزار دوسو پچاسی(89285)روپے دیئے جائیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2