سوال:
مجھے یہ مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ ہمارے والد صاحب کے انتقال کے بعد اُن کا ایک گھر وراثت میں آیا ہے۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد ہمارے سب سے بڑے بھائی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جب یہ گھر خریدا جا رہا تھا تو اُس وقت انہوں نے اس میں ایک لاکھ روپے شامل کیے تھے، لہٰذا اب اگر یہ گھر فروخت ہوگا تو موجودہ دور میں اُس ایک لاکھ روپے کی جو قیمت بنتی ہے، وہ رقم پہلے انہیں واپس دی جائے، اس کے بعد باقی رقم وراثت کے مطابق تقسیم کی جائے۔
جبکہ صورتِ حال یہ ہے کہ:
ہم تمام بھائی بہنوں میں سے کسی کو بھی اس بات کا پہلے کوئی علم نہیں تھا۔
بڑے بھائی کے پاس اس دعوے کا کوئی تحریری ثبوت یا گواہ موجود نہیں ہے۔
والد اور والدہ رحمہما اللہ نے اپنی زندگی میں کبھی ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
نہ ہی والدین کی زندگی میں بڑے بھائی نے کبھی اس طرح کا دعویٰ کیا یا کسی کو اس کا ذکر کیا۔
ہمیں اس دعوے کا علم والد صاحب کے انتقال کے تیسرے دن بڑے بھائی کی زبان سے ہوا۔
ایسی صورت میں شرعاً:
کیا بڑے بھائی کا اس طرح رقم کا مطالبہ کرنا جائز ہے؟
اور ہم تمام بھائی بہنوں کے لیے اس معاملے میں کیا لائحۂ عمل اختیار کرنا درست ہوگا؟
براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بھائی کے پاس اپنے اس دعویٰ پر کوئی تحریری ثبوت یا گواہ موجود نہ ہو تو شرعاً اس کے اس دعویٰ کا کوئی اعتبار نہ ہوگا، جبکہ اگر یہ معاملہ عدالت یا پنچایت میں چلا جائے اور بھائی سے گواہ طلب کرنے کی صورت میں اس کے پاس اپنے دعویٰ پر کوئی گواہ نہ ہو، جبکہ سائل اور دیگر ورثاء اس کے متعلق عدمِ علم پر قسم کھا لیتے ہیں، تو شرعاً بھائی کا دعویٰ مسترد ہو کر وہ اپنے حصۂ شرعیہ کے علاوہ اضافی رقم کا حقدار نہ ہوگا۔
كمابدائع الصنائع:وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله عليه الصلاة والسلام «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل عليه الصلاة والسلام البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين اھ( فصل في حجة المدعي والمدعى عليه،ج:٦،ص:٢٢٥،ط:سعيد)
وفي دررالحكام في شرح مجلة الاحكام:وإذا ادعى المدعي دعواه في حضور وارث واحد وأنكر الوارث المدعى عليه الدين وعجز المدعي عن الإثبات فيحلف كل وارث على حدة على كونهم لا يعلمون بأن الميت مدين للمدعي بذلك المبلغ أو بأقل منه ولا يسقط اليمين عن باقي الورثة بحلف بعض الورثة؛ لأن الناس يتفاوتون في اليمين ولأن الوارث يستحلف على العلم وربما لا يعلم الأول بدين الميت ويعلم الثاني (الخانية)( (المادة 1642) يصح أن يكون أحد الورثة خصما في الدعوى التي تقام على الميت أو له،ج:٤،ص:٢٥٣،ط:دارالجيل)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2