جناب سوال یہ ہے کہ اگر والد صاحب نے سوتیلی ماں کو مہر میں پلاٹ دیا ہو اور بعد میں اس پہ گھر بنا دیا ہو اور نام بھی والد صاحب کے ہو تو والد کے مرنے کے بعد کیا وہ وراثت کہلاے گی تقسیم ہو گی۔ یا ساری سوتیلی ماں کو ملے گی۔؟ راہنمائی کریے۔ شکریہ
سائل کے والد مرحوم نے سائل کی سوتیلی والدہ کو حق مہر کے مد میں جو پلاٹ دیا ہے وہ تو سائل کی سوتیلی والدہ کی ملکیت ہے ،اس میں سائل یا والد مرحوم کے دیگر ورثاء کا شرعا کوئی حصہ نہیں ،البتہ اس پلاٹ پر والد مرحوم نے جو تعمیرات کی تھیں ،اس کے متعلق سوال میں تفصیل مذکور نہیں کہ والد مرحوم نے یہ تعمیرات کس غرض سے کی تھی ؟ سوتیلی والدہ کی اجازت و رضامندی سے یہ تعمیرات کی گئی تھیں یا اس کی اجازت کے بغیر ؟ یہ تعمیرات سوتیلی والدہ کے لیے تھیں یا کسی اور مقصد کے لیے؟ لہذا ان تعمیرات کے متعلق مکمل تفصیل اور وضاحت معلوم ہونے سے قبل اس کے متعلق کوئی حکم نہیں بیان کیا جا سکتا۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2