السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :میرے دادا صاحب کا انتقال سن 2003 میں ہوگیا تھاان کے انتقال کے بعد ان کی تمام جائیداد شرعی طریقے کے مطابق تمام ورثاء کے درمیان تقسیم کردی گئی تھی۔ تقسیم کے وقت میری ایک پھوپھی کے حصے میں دو کروڑ روپے آئے تھے ، تاہم انہوں نے اس وقت اپنا حصہ عملاً وصول نہیں کیا اور بعد میں لینے کا کہا تھا،اب موجودہ وقت میں اس کی مالیت بڑھ گئی تھی ،تواب اگر میری پھوپھی اپنا حصہ وصول کرنا چاہیں تو کیا انہیں موجودہ قیمت کے حساب سے ادا کیا جائے گا یا تقسیمِ ترکہ کے وقت کی قیمت (دو کروڑ) کے مطابق؟قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں تقسیم کے وقت اگر سائل کی مذکور پھوپھی کے حصۂ میراث کی قیمت لگا کر دو کروڑ روپے طے کر لیے گئے تھے اور پھوپھی اس پر راضی بھی ہو گئی تھیں لیکن وصولی نہیں کی تھی بلکہ بعد میں لینے کا کہا تھا، تو اب وہ اپنی دو کروڑ کی حقدار ہیں، اس سے زیادہ کا مطالبہ اس کے لیے شرعاً درست نہیں۔
كما في السنن الكبرى على البيهقى:عن كثير بن عبد الله المزني، عن أبيه، عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " المسلمون عند شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا أو شرطا أحل حراما(باب الشرط في الشركة وغيرها،ج:٦،ص:١٣١،ط:دارالكتب العلمية)
وفي شرح الزيادات:ولو ظهر دين، أو وصية، يقضي دينه من الزوائد الحادثة قبل القسمة، ويعتبر قيمة الوصية يوم القسمة، فكانت ملكا للموصي له(كتاب البيوع،ج:٣،ص:٨٣٧،ط:المجلس العلمى)
وفي الدررالبهيه من الفتاوي الكويتيه:تقوم التركة الموصى بثلثها يوم اقتسامها بين الورثة والموصى له، ثم يستخرج الثلث منها للوصية بحسب قيمتها يوم القسمة لا يوم الوفاة.( سقوط حق الورثة بالبيت بإهمال الوصي،ج:٩،ص:٣٩٥،ط:ادارة الافتاء بوزارة الاوقاف)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2