السلام وعلیکم رحمۃ اللہ برکاتہ قابل احترام مفتی صاحبان
آپ حضرات سے یہ مسئلہ دریافت کرنا ہے، میرے والد صاحب کا PSO کمپنی میں ط ٹرانسپورٹ کمپنی کے نام کا ٹھیکہ تھا ،ان کا 1996میں انتقال ہو گیا ،ان کے ترکہ میں سے پانچ بہنوں کا جو حصہ بنتا تھا وہ ہم نے نقد کی شکل میں ادا کر دیا تھا، باقی ہم تین بھائی ہیں، ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم کاروبار شراکت میں کریں گے، اب چونکہ کمپنی میں کسی ایک بھائی کے نام منتقل ہو سکتا تھا چونکہ میں بڑا تھا تو باہمی مشاورت سے کمپنی میں منتقل ہو گیا جب اب تک کمپنی میں میرے نام سے چل رہی ہےکمپنی میں انکم ٹیکس میں بینکوں میں مختلف جگہوں میں میرے ہی نام ہیں اور کاروبار کو چلانے کی محنت بھی بغیر کسی تنخواہ کے میں کرتا رہا اب بھائیوں نےکاروبار سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کیا میں نے کہا ٹھیک ہے ہو جاتے ہیں ہماری ذاتی بڑی گاڑیاں ہیں وہ ہم نے قرعہ کے ذریعہ تقسیم کر لیں اب مسئلہ آیا ٹھیکہ کا اس کی مارکیٹ میں قیمت بھی ہےاور کچھ سرمایہ کاروبار کے اندر بھی لگاہوا اس سب کا حساب بنا کر تین حصے بنا لئے...... اب بھائی کہتے ہیں کہ ٹھیکہ کی تقسیم کابھی قرعہ نکالیں میرا موقف یہ ہے کہ ٹھیکہ چونکہ میرے نام پر مختلف جگہوں کاغذات میں میرا نام ہے، اس لئے میں رکھوں گا اور ہمارے والد صاحب کا اور لوگوں کا بھی یہ دستور رہا ہےکہ بھائی جب الگ ہوتے رہے ہیں تو ان کو ان کے حصے سے دوسرا ٹھیکہ لے کر دیتے رہے ہیں مثلاً میرے والد صاحب اور پھوپھا جان آپس میں اسی کاروبار میں شریک تھے پھوپھا کے انتقال کے بعد ان کی اولاد شریک رہی کاروبار والد صاحب کے نام تھا بعد میں علیحدہ ہونے پر والد صاحب نے ان بھائیوں کو مارکیٹ سے دوسرے ٹھیکے خرید کر دے کر الگ کر دیا اور والد صاحب نے اپنے بھائیوں کو بھی مارکیٹ سے ٹھیکے لیکر ان کے نام پر حساب کتاب کے دے کر الگ کر دیا اسی طرح میرے والد صاحب نے کمپنی میں چھوٹے چچا کو ٹھیکہ لے کر دیا چچا نے اپنے ایک بیٹے کے نام کر دیا بعد میں انہوں نے بھی آپ نے بھائیوں کو مارکیٹ سے دوسرے ٹھیکے لیکر الگ... اسی طرح ایک اور خاندان اور مارکیٹ میں لوگ کرتے ہیں..... اب میرا سوال یہ ہے کہ یہ دستور چل رہا ہے اسی طرح اب میں نے ٹھیکہ اپنے پاس رکھ کر ان سے کہا اگر آپ بھائیوں نے یہی کام کرنا ہے تو آپ لوگوں کے لیے بھی ٹھیکہ لے لیتے ہیں اس پر وہ تیار نہیں ہوئے اب پوچھنا یہ ہے میں ٹھیکہ رکھ کر جو کاروبار میں ان کے حصے بن رہے ہیں وہ نقد اور گاڑیوں کی شکل میں ان کو ادا کر رہا ہوں شرعاً میرے لیے کوئی مسئلہ تو نہیں؟؟؟
واضح ہوکہ ٹھیکہ بذاتِ خود کوئی مال (عین) نہیں، بلکہ ایک حق اور نفع حاصل کرنے کا ذریعہ ہے،لہذااگراس کوقانونی طور پر باقاعدہ رجسٹرڈ کروایاگیاہواورعرف میں اس کی مالیت بھی لگتی ہو تو یہ ایک ثابت شدہ حق قرارپائےگا اوراس کی مالیت شرعاًبھی معتبرشمارہوگی،صورت مسؤلہ میں "ٹھیکہ "چونکہ کاروبارکے ساتھ وابستہ اورقانونی طورپررجسٹرڈبھی ہے،لہذاوہ بھی شراکت کے اثاثوں میں شامل ہوگا، خواہ کاغذات ایک بھائی کے نام پر ہوں؛کیونکہ نام ہوناملکیت کی قطعی دلیل نہیں، بلکہ اصل اعتبار سرمایہ اور شراکت کا ہے۔اورشریعت کا اصول ہے کہ مشترکہ مال یاکاروبار کی تقسیم صرف باہمی رضامندی سے معتبر ہوتی ہے، کسی ایک شریک کو بلا رضامندی کسی خاص چیز پر ترجیح حاصل نہیں ہوتی۔چنانچہ اگردیگربھائی اس"ٹھیکہ "کی بھی قرعہ اندازی پربضدہوں توسائل کاان کومجبورکرکے ٹھیکہ اپنے پاس ہی رکھنادرست نہیں بلکہ ایسی صورت میں بہتریہی ہےکہ قرعہ اندازی کرلی جائے ،اورجس کے نام کاقرعہ نکل آئے تووہ بھائی دیگردونوں بھائیوں کوٹھیکہ میں سےان کے حصہ کی رقم دیکراس ٹھیکہ کواپنے نام ٹرانسفرکروالے۔اوراگرکوئی دوسرابھائی بھی یہی کام کرنے کاخواہشمندہوتووہ اپنے نام کاعلیحدہ ٹھیکہ منظورکروالے۔
کمافی فقہ البیوع : و یبدو لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ أن حق الاسم التجاری و العلامات التجاریۃ، و ان کان فی الأصل حقا مجردا غیر ثابت فی عین قائمۃ، و لکنہ بعد التسجیل الحکومی الذی یتطلب جھدا کبیرا و بذل اموال جمۃ، و الذی تحصل لہ بعد ذلک صفۃ قانونیۃ تمثلھا شھادات مکتوبۃ بید الحامل و فی دفاتر الحکومۃ، أشبہ الحق المستقر فی العین، و التحق فی عرف التجار بالأعیان، فینبغی أن یجوز الاعتیاض عنہ علی وجہ البیع أیضا. (277/1، ط: مکتبة معارف القرآن)
وفی تکملۃ فتح الملھم : ویدخل في ھذا القسم حق خلو المتجر (گڈول) أیضًا، فقد شاع في عصرنا بیع الأسماء التجاریۃ، فمن اشتہر اسم متجرہ بأن المشترین یمیلون إلی ذٰلک الإسم بیع اسم متجرہ فقط، وہو في الحقیقۃ بیع لإحداث العقود مع المشترین بہٰذا الإسم الخاص، وقد أفتی حکیم الأمۃ مولانا الشیخ أشرف علي التھانوي رحمہ اللّٰہ بأن في ہٰذا البیع سعۃ، وقاسہ علی جواز النزول عن الوظائف بمال.(کتاب البیوع، 365/1، ط: مکتبة دار العلوم کراتشي)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2