محترم علماءکرام سے گذارش ہے کہ تقریباً پچیس سال قبل ایک بچہ میرے بہنوئی کو مسجد کے سامنے سے ملا تھا ،تو انہوں نے مفتی صاحب کے مشورے سے اس بچے کی پرورش کی ،اور اس بچے کا شناختی کارڈ بھی میرے بہنوئی نے اپنے نام سے بنوالیا ،اور وفات سے پہلے میرے بہنوئی نے اپنی حصے کی زمین اور پنڈی میں کمائی سے ایک ذاتی مکان بھی اس کے نام کردیا ،جبکہ اس کی چار بیٹیاں ہیں،جو تین شادی شدہ ہےاور ایک کنواری ہے،اور ایک بہن اوار بھائی بھی ہے ،اب اس بچے کے لئے میری بہن نے میری بیٹی کا رشتہ مانگ رہی ہے،اور میں نے اس سے دو کنال زمین اور آدھا مکان حق مہر دینے کی شرط رکھی ہے ،ہم نے امام صاحب سے اس مسئلے کے بارے میں معلوم کیا تھا ،تو انہوں نے کہا کہ اس بچے کو جائیداد سے کچھ نہیں آتا ،اب معاملہ یہ ہے کہ جو زمین اسکے بہن اور بھائیوں کا حق ہے میرا بہنوئی اس بچے کے نام کرگیا ، اور کیا یہ زمین اور مکان شریعت کے حساب سے حق مہر میں دینا جائز ہے ؟دوسری بات یہ ہے کہ نکاح نامہ میں والد کا نام لکھا جاتا ہے ،یہاں پر بھی علماء کرام نے کہا ہے کہ میرے بہنوئی کا نام ولدیت سے ہٹاکر سرپرستی میں لکھا جائے ، جبکہ میری بہن کہہ رہی ہے کہ آج تک اس بچے کو اس بات کاعلم نہیں ہے، لہذا میرے شوہر کانام بچے کی NICمین ولدیت کے جگہ لکھا ہےتو نکاح نامے میں بھی ولدیت کی جگہ لکھا جائےنہ کہ سرپرستی میں ،کیا یہ جائز ہے ؟اگر بچے کو اس بات کا علم ہوا ،تو اس کا دل ٹوٹ جائیگا ،اب ہمیں علماءکرام سے یہ معلوم کرناہے کہ نکاح کی درستگی کیلئے کیاشرائط ہونی چاہیئے ؟یہ زمین اور مکان جس پر دوسروں کاحق ہے اس کو حق مہر میں رکھنا جائز ہے؟ براہ کرم اس معاملے پر قرآن وسنت سے میری رہنمائی فرمائیں !اور نکاح کی جائز شرائط بھی بتادیں!
واضح ہو کہ کوئی چیز محض کسی کے نام کرنے سے اس کی ملکیت نہیں بن جاتی ، جب تک اسے اس چیز پر باقاعدہ مالکانہ قبضہ نہ دے دیا جائے کہ وہ اس میں جس طرح چاہے، تصرف کرسکے،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے بہنوئی نے اگر اپنی ذاتی زمین مذکور لڑکے کے کاغذات میں نام کرنے کیساتھ باقاعدہ اس پر قبضہ و تصرف کا اختیار بھی دیدیا ہو، تو ایسی صورت میں یہ زمین اور مکان اس کی ملکیت بن چکی ہے،جن کو اب بطور مہر طے کرنا بھی شرعاً درست ہوگا،اور اگر کاغذات میں نام کرنے کیساتھ باقاعدہ زندگی میں اس پر قبضہ اور تصرف کا اختیار نہ دیا ہوبایں طور کہ مذکور لڑکے کو مرحوم کی زندگی میں اس زمین ومکان کو فروخت کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا، تو وہ زمین و مکان بدستور مرحوم کی ملکیت ہے، جو بوقت انتقال اس کے موجود ورثاء میں ان کے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہے،لہذا اس زمین ومکان کو لڑکے کی جانب سے نکاح کے موقع پر حق مہر کے طور پر مقرر نہیں کیا جاسکتا،جبکہ لے پالک کی ولدیت کے خانے میں پرورش کرنے والے کا نام بطور والد درج کرنا شرعاً ناجائز اور کبیرہ گناہ ہے، چنانچہ مذکور لڑکے کی ولدیت کے خانے میں مرحوم کا نام لکھنے کی بجائےاس کے حقیقی والد کا نام درج کیا جائے، لڑکے کو حقیقی صورت حال معلوم ہونے پرافسوس کے اظہار سے بچانا شرعاً عذر نہیں، جس کی بناء پر حقیقی ولدیت کے اندراج سے گریز کیاجائے۔
کما جاء فی تفسیر ابن کثیر: {ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله} : هذا أمر ناسخ لما كان في ابتداء الإسلام من جواز ادعاء الأبناء الأجانب، وهم الأدعياء، فأمر الله تعالى برد نسبهم إلى آبائهم في الحقيقة، وأن هذا هو العدل والقسط(سورۃ الاحزاب،ج:6،ص:377،ط:دار طیبۃ العربیۃ)
وفی الھندیۃ: وإذا تزوجها على هذا العبد وهو ملك الغير أو على هذه الدار وهي ملك الغير فالنكاح جائز والتسمية صحيحة فبعد ذلك ينظر إن أجاز صاحب الدار وصاحب العبد ذلك فلها عين المسمى، وإن لم يجز المستحق لا يبطل النكاح ولا التسمية حتى لا يجب مهر المثل وإنما تجب قيمة المسمى كذا في المحيط
(کتاب النکاح، الباب السابع فی المھر،ج:1،ص:303،ط:ماجدیۃ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2