میرے تایا جان نے حج کی نیت سے دس لاکھ روپے چار افراد کے لیے دئے تھے، (جسمیں میں ، میری زوجہ ، تایا جان ، تائی جان شامل تھے، اس وقت حج ڈھائی لاکھ میں ہوتا تھا ، چناں چہ قرعہ اندازی میں نام نہ آنے کی وجہ سے حج نہ ادا کرسکے اور یہ مذکور ہ رقم تایا جان نے لینے سے انکار کردیا تھا ، البتہ تایا جان اور تائی جان کا حج بدل ادا ہوچکا ہے ، اور تایا جان ، تائی جان کا انتقال ہوچکا ہے اور ان کی اولادبھی نہیں ہے ، لہذا اس رقم کے بارے میں دریافت کرنا ہے کہ یہ دس لاکھ روپے وراثت میں تقسیم ہونگے ، جوکہ تا حال امانت میں موجود ہیں ، اور اس رقم میں ڈھائی ڈھائی لاکھ میرے لئے اور میری زوجہ کے حج کے لئے مختص تھے ، یہ رقم (پانچ لاکھ ) ہماری ملکیت ہوگی یا پھر اس رقم کو بھی وراثت میں شامل کیا جائے گا، وضاحت فرما دیجئے، جزاک اللہ احسن الجزاء۔نوٹ: سائل بینک میں ملازم ہے ، اس لئے سائل کو ہی پیسے دیدیئے کہ یہ پیسے جمع کروادو ، دو بار نام نہ آنے کے بعد پیسے سائل کے اکاؤنٹ میں پڑے رہے ، سائل نے ایک دو بار کہا کہ وہ پیسے لے لیں ، جس پر تایا نے یہی کہا کہ" ابھی اپنے پاس ہی رکھو"۔
سوال میں درج تفصیل کے مطابق چونکہ تایا نے سائل کو مذ کور رقم حج کی قرعہ اندازی میں شامل ہونے کے لئے بینک میں جمع کروانے کے لیے دی تھی ، اور اس معاملہ میں سائل کی حیثیت ایک وکیل کی تھی ، اس لیے سائل کے پاس وہ رقم شرعاًامانت شمار ہوگی ، اور اب تایا کے انتقال کے بعد یہ رقم ان کے ترکہ کا حصہ ہوکر تمام ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کرنا لازم ہوگی ۔
كما في الهندية : أما معناها شرعا: فهو إقامة الإنسان غيره مقام نفسه في تصرف معلوم حتى إن لم يكن معلوما يثبت به أدنى تصرفات الوكيل وهو الحفظ، وذكر في المبسوط: وقد قال علماؤنا فيمن قال لآخر: وكلتك بمالي: إنه يمتلك بهذا اللفظ الحفظ فقط كذا في النهاية.اھ(کتاب الوکالۃ، ج: ٣، ص: ٥٦٠، مط: ماجدية)
وفي الهداية: قال: "كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره" لأن الإنسان قد يعجز عن المباشرة بنفسه على اعتبار بعض الأحوال فيحتاج إلى أن يوكل غيره فيكون بسبيل منه دفعا للحاجة. وقد صح أن النبي صلى الله عليه وسلم وكل بالشراء حكيم بن حزام وبالتزويج عمر بن أم سلمة رضي الله عنهما.اھ(کتاب الوکالۃ، ج: ٣، ص:١٣٦، مط: دار الكتب العلمية)
وفي الهندية: وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني.اھ(کتاب الودیعۃ، ج:٤، ص: ٣٣٨، مط: ماجدية)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2