وراثتی اثاثوں پر زکوٰۃ سے متعلق سوالات
پس منظر
ہمارے والد کا گزشتہ سال ماہِ شوال میں انتقال ہوا۔ وہ اسی سال ماہِ رمضان میں اپنے تمام قابلِ زکوٰۃ اثاثوں کی زکوٰۃ ادا کر چکے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد وراثتی اثاثوں کو جمع کرنا اور ان کا حساب مکمل کرنا ایک وقت طلب عمل رہا، کیونکہ قانونی کارروائیاں جاری تھیں اور بعض اثاثے اور واجبات مکمل طور پر واضح نہیں تھے۔ اسی وجہ سے وراثت کی تقسیم فوری طور پر ممکن نہ ہو سکی۔
وراثتی اثاثے دو اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں:
وہ اثاثے جو آسانی سے نقد ہو گئے اور رواں سال ماہِ رجب میں ورثاء میں تقسیم کر دیے گئے۔
وہ اثاثے جو فوری طور پر نقد نہیں ہو سکتے اور قانونی و انتظامی معاملات کی وجہ سے ابھی تک تقسیم نہیں ہوئے۔
سوال 1: تقسیم شدہ اثاثوں پر زکوٰۃ
جو اثاثے ماہِ رجب میں ورثاء کو مل گئے، کیا ان پر ہر وارث کو اپنے حصے کے مطابق الگ الگ زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی؟
اور زکوٰۃ کب سے واجب سمجھی جائے گی؟
سوال 2: مرحوم کے نام سے چلنے والے کاروبار پر زکوٰۃ
ہمارے والد ایک قائم شدہ کاروبار کے مالک تھے۔ ان کی زندگی میں ہمارے دو بھائی اس کاروبار میں تنخواہ پر کام کرتے تھے۔ والد کے انتقال کے وقت کاروبار کے تمام اثاثوں اور واجبات کا مکمل حساب موجود تھا۔
کاروبار اب بھی والد کے نام پر چل رہا ہے، کیونکہ لائسنس، رجسٹریشن، بینک اکاؤنٹس اور کاروباری ساکھ اسی نام سے ہیں۔ اگر اس مرحلے پر والد کے انتقال کی اطلاع بینکوں یا سرکاری اداروں کو دی جائے تو بینک اکاؤنٹس منجمد ہو سکتے ہیں، کاروباری لائسنس منسوخ ہو سکتے ہیں اور جب تک قانونی وراثتی اور ملکیت کی کارروائی مکمل نہ ہو، کاروبار بند ہونے کا شدید خدشہ ہے۔
تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے، ہمارے دو بھائی عارضی طور پر کاروبار کی نگرانی کر رہے ہیں اور آہستہ آہستہ قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں تاکہ کاروبار چلتا رہے۔ سب ورثاء اس بات پر متفق ہیں کہ وراثت کی تقسیم اس طرح کی جائے کہ ان دو بھائیوں کا روزگار متاثر نہ ہو، کیونکہ باقی ورثاء کے اپنے ذرائع آمدن موجود ہیں۔
اس صورت میں درج ذیل سوالات ہیں:
کیا اس عبوری عرصے میں کاروباری اثاثوں پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟
اگر ہوگی تو زکوٰۃ ادا کرنے کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
زکوٰۃ کا حساب کس بنیاد پر کیا جائے گا؟
سوال 3: غیر فعال بینک اکاؤنٹس میں موجود رقوم پر زکوٰۃ
ہمارے والد کے بینک اکاؤنٹس اب فعال نہیں رہے۔ یہ رقوم بینک اکاؤنٹس میں موجود ہیں، لیکن انہیں کسی بھی صورت میں استعمال نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ رقم نکالنے یا منتقل کرنے کے لیے عدالتی حکم اور متعلقہ اداروں کو مرحوم کے انتقال کی باضابطہ اطلاع دینا ضروری ہے۔ ان تقاضوں کی تکمیل سے قبل یہ رقوم عملاً منجمد ہیں اور ورثاء میں تقسیم بھی نہیں ہو سکیں۔
ایسی صورت میں، اس عبوری مدت کے دوران ان بینک رقوم پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟
سوال 4: غیر آباد پلاٹ پر زکوٰۃ
وراثت میں ایک پلاٹ بھی شامل ہے جو ہمارے والد نے کافی عرصہ پہلے خریدا تھا، اور جس سے متعلق تمام قانونی مسائل 2023 کے آخر میں ختم ہو چکے تھے۔ یہ واضح نہیں کہ والد اس پلاٹ پر ذاتی رہائش کے لیے گھر بنانا چاہتے تھے یا اسے سرمایہ کاری کے طور پر رکھنا چاہتے تھے۔
یہ پلاٹ اس وقت فروخت کے قابل نہیں ہے اور دیگر وراثتی اثاثوں کی طرح قانونی کارروائی کی وجہ سے اس کی تقسیم میں بھی تقریباً ایک سال کا وقت لگ سکتا ہے۔
شریعت کی روشنی میں درج ذیل امور کی وضاحت درکار ہے:
کیا اس پلاٹ پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟
اگر ہوگی تو زکوٰۃ خریداری قیمت پر ادا کی جائے گی یا موجودہ مارکیٹ قیمت پر؟
واضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ جب تک باقاعدہ تقسیم ہوکر کسی وارث کے قبضہ میں نہ آجائے، اس وقت تک اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، لہذا صورت مسئولہ میں غیر آباد پلاٹ ، مرحوم کے بینک اکاؤنٹس میں موجود منجمد رقم، اور دیگر غیر تقسیم شدہ اثاثوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، بلکہ رقم کی صورت میں تقسیم کے بعد ہر وارث اپنے حصے کے اعتبار سے صاحب نصاب ہونے کی صورت میں سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنے کا پابندہوگا۔
البتہ مرحوم کا جو کاروبار تمام ورثاء کی رضامندی سے بدستور جاری ہے اور ورثاء نے اس کی نگرانی دو بھائیوں کے سپرد کر رکھی ہے، تو وہ شرعاً ورثاء کی ملکیت ہے، اس لیےاگر اس کے قابل زکوٰۃ اثاثے نصاب کو پہنچتے ہوں اور ہر وارث کا حصہ بقدر نصاب ہو تو ہر وارث پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی، نیز جو اثاثے رقم کی صورت میں ورثاء میں تقسیم ہوچکے ہیں تو صاحب نصاب ہونے کی صورت میں ہر وارث پر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ لازم ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة كذا في السراج الوهاج، (کتاب الزکاۃ،(الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها)،ج:1،ص:172،ط:ماجدیہ)
و فی البدائع: «وجملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة، وعبيد التجارة، أو غلة مال التجارة ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بأداء شيء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما، فكلما قبض أربعين درهما أدى درهما واحدا.
وعند أبي يوسف ومحمد كلما قبض شيئا يؤدي زكاته قل المقبوض أو كثر.
وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث،»(کتاب الزکاۃ،باب الشرائط اللتی ترجع الی المال، ج:2، ص10، ط: سعید)
وفی الہندیۃ: "و من كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالًا من جنسه ضمّه إلی ماله و زکّاه سواء کان المستفاد من نمائه أولا و بأي وجه استفاد ضمّه سواء كان بمیراث أو هبة أو غیر ذلك."(کتاب الزکاۃ،الباب الاول،ج:1، ص:175، ط:ماجدیہ)
و فیھا ایضاً: وفي السائمة، ومال التجارة إن نوى الورثة الإسامة أو التجارة بعد الموت تجب، وإن لم ينووا قيل تجب وقيل لا تجب كذا في محيط السرخسی،الخ (کتاب الزکوٰۃ،الباب الاول فی تفسیر الزکوٰۃ،ج:1،ص:174،ط:ماجدیہ)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0