محترم مفتی صاحب /دارالافتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک خاندانی وراثتی مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی کی درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم درج ذیل تفصیل ملاحظہ فرمائیں:میرے نانا نانی کا انتقال ہوگیا تھا ان کا ایک گھر تھا۔ جب میری والدہ بیمار ہوئیں تو میرے بڑے بھائی نے علاج کے لیے وہ گھر فروخت کر دیا۔ لیکن اس نے میری دو ذہنی معذور خالاؤں کو وراثت میں شامل نہیں کیا۔گھر فروخت ہونے کے بعد حاصل شدہ رقم سے اس نے: ایک گھر خریدادو فلیٹس لیے ایک گاڑی لی اپنا کاروبار شروع کیا اپنی شادی کیاس سب کے بعد بھی کچھ رقم بینک میں موجود تھی۔ اب وہ کہتا ہے کہ سب کچھ اسی کا ہے۔ گھر اس کے نام پر ہے جبکہ فلیٹس کی مکمل معلومات ہمارے پاس نہیں۔خاندانی صورتِ حال یہ ہے:
میرے سب سے بڑے ماموں نابینا ہیں، ان کی شادی طلاق پر ختم ہوگئی، ایک بیٹی ہے جو اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہے ایک غیر شادی شدہ خالہ ہیں دو خالائیں ذہنی معذوری کا شکار ہیں
میری والدہ موجود ہیں میری والدہ کے تین بچے ہیں: میں، میری بہن، اور میرا بڑا بھائی (جس نے گھر فروخت کیا اور تمام اثاثے اپنے قبضے میں رکھ لیے)۔
میرے بھائی نے:
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کے نانا ،نانی مرحومین نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ چھوڑا تھا ،وہ مرحوم کا ترکہ تھا ،جس میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث کے بعد بقیہ ترکہ تمام ورثاء ( سائل کی والدہ ، ماموں اور خالاؤں ) میں تقسیم کرنا لازم تھا، چنانچہ سائلہ کے بڑے بھائی کا نانا ،نانی کے ترکے پر قبضہ کر کے اپنے ماموں ،والدہ اور خالاؤں کو شرعی حصہ نہ دینا ظلم اور غصب پر مبنی عمل ہو نے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے ،جس کی وجہ سے و ہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے اس پر لازم ہے کہ نانا، نانی ، مرحومین کا ترکہ ان کے ورثاء کو حوالے کر کے مؤاخذه دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے بصورت دیگر ورثاء کو اپنے حق کی وصولی کے لئے قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہے۔
وفی حاشیۃ ابن العابدین: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته ،الخ(ج: 6 ص : 200 مطلب فیما یجوز التصرف بمال الغیر ناشر: سعید)
وفی محیط البرہانی : ويقسم الباقي بين الأولاد للذكر مثل حظ الأنثيين ، الخ (ج: 6 ص : 181 فصل فی وقف المریض ناشر : دار کتب العلمیہ)
وفی محیط البرہانی : والإرث إنما يجري فيما يبقى بعد الموت وهذا خيار لايسقط بالاسقاط مقصوداً،الخ(ج: 6 ص :532 الفصل الثالث فی خیار الرؤیۃ ناشر: دار الکتب العلمیہ)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2