بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم مفتیانِ کرام / دارالافتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مسئلہ / استفتاء:
ایک وراثتی مکان جو شرعاً تمام ورثہ کی مشترکہ ملکیت ہے، اس میں مشترکہ راستہ بند کیا جائے۔
مسئلے کی تفصیل:
اُس کی صورت یہ ہے کہ مکان کے دو راستے دروازے شرقا و غربا تھے۔ ایک دروازہ ایک گلی میں کھلتا تھا اور دوسرا دروازہ دوسری گلی میں کھلتا تھا۔ جس سے مکان میں رہائش پذیر افراد آسانی سے ایک گلی سے دوسری گلی میں جا سکتے تھے۔
اب ایک وارث نے اپنے ذاتی حصے میں توسیع کرتے ہوئے ایک کمرہ بنا کر ایک طرف کا دروازہ اپنے حصے میں لے کر وہ دروازہ بند کر دیا ہے، جس کی وجہ سے دیگر رہائشی افراد کو سخت تنگی اور پریشانی کا سامنا ہے۔
براہِ کرم شریعت کی روشنی میں اس مسئلے پر رہنمائی فرمائیں۔
سوالات درج ذیل ہیں:
کیا شریک کی اجازت کے بغیر مشترکہ راستہ بند کرنا شرعاً جائز ہے؟
کیا ایسا تصرف غصب اور تعدی کے حکم میں داخل ہے یا نہیں؟
کیا شریعت کی رو سے ایسی دیوار یا تعمیر گرانا لازم ہوگا؟
یہ استفتاء چار بھائیوں اور دو بہنوں کے درمیان پیش کیا جا رہا ہے، تا کہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں حق پر عمل کیا جا سکے ۔
والسلام
سائلین
دستخط: مرحوم حاجی آدم باہم
(چار بھائی اور دو بہنیں)
برائے رابطہ: عبدالباسط
0300-2195574
تنقیح:
اپنے رہائشی حصے سے کیا مراد ہے ؟
جواب تنقیح:
چار بھائیوں نے والد مرحوم کی وفات کے بعد رہائشی مکان کو آپس میں دو دو کمروں کے ساتھ تقسیم کر دیا تھا لیکن درمیانی راستہ مشترک تھا اب ایک وارث نے اپنے حصے کی جانب والا مشترکہ راستے کا دروازہ بند کر دیا جس کی وجہ سے دیگر ورثہ کو تنگی اور پریشانی ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر مذکور راستہ وراثتی مکان کا مشترکہ حصہ تھا اور تمام ورثاء کو اس سے گزرنے کا حق حاصل تھا تو کسی ایک وارث کا دیگر شرکاء کی اجازت کے بغیر اس راستہ کو بند کرنا شرعا جائز نہیں، چنانچہ اگر تعمیر کی وجہ سے مشترکہ راستہ مسدود ہو گیا ہو اور دیگر ورثاء کو تکلیف پہنچ رہی ہو تو اس شریک پر لازم ہے کہ وہ اس راستہ کو بحال کر ے یا کوئی دوسرا متبادل انتظام کرے، تاکہ دیگر شرکاء کی تکلیف کا ازالہ ممکن ہو سکے۔
کما فی مجلة الأحكام العدلية :
المادة (1220) الطريق الخاص كالملك المشترك لمن لهم فيه حق المرور , فلذلك لا يجوز لأحد من أصحاب الطريق الخاص أن يحدث فيه شيئا سواء كان مضرا أو غير مضر إلا بإذن الآخرين.
و فیہ:مادة (1221) ليس لأحد أصحاب الطريق الخاص أن يجعل ميزاب داره التي بناها مجددا إلى ذلك الطريق إلا بإذن سائر أصحابه.(3/ 229،235)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2