محترم علمائے کرام صاحبان السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ میرا ایک بھائی اور ایک بہن ہے، اور میں خود بھی ایک لڑکی ہوں۔ میرے دادا اور دادی پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔ میرے والد کے ایک بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ میری ایک پھوپھی فوت ہو چکی ہیں اور ان کی اولاد موجود ہے۔ میرے والد بھی وفات پا چکے ہیں۔ میرے چچا جنوری 2026 میں فوت ہوئے ہیں۔ اب میری ایک پھوپھی زندہ ہیں اور وہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اب میری زندہ پھوپھی اور میرا بھائی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دونوں جائیداد کے مالک ہیں۔ میری پھوپھی ساری جائیداد میرے بھائی اور میری مرحوم پھوپھی کے بچوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتی ہیں، اور ہم دونوں بہنوں سے کہتی ہیں کہ تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ مہربانی فرما کر اس بارے میں رہنمائی فرمائیں اور فتویٰ عنایت کریں۔ السلام علیکم سائلہ کی پھوپھی سائلہ اور اس کی بہن کو کس کی وراثت سے حصہ نہیں دے رہی،سائلہ کے والد کی وراثت سے یا مرحومہ پھوپھی کی وراثت سے،اس کی وضاحت کردیں تو اس پر غور کے بعد جواب دیا جائےگا۔شکریہ مرحوم چچا جو غیر شادی شدہ فوت ہوا ہے جنوری 2026 میں۔ محترم علماءِ کرام صاحبان سوال میرے چچا کی جائیداد کے بارے میں ہے یعنی چچا کی جو وراثت ہے اس سے مجھے اور میری بہن کو نکالا جاتا ہے اور میری پھوپھی اور میرا بھائی دونوں اونرشپ کلیم کرتے ہیں اور میرے بھائی اور کزنز کے درمیان میرے مرحوم چچا کی جائیداد کی تقسیم کی بات ہو رہی ہے۔ آپ فتویٰ دیں کہ کیا مرحوم غیر شادی شدہ چچا کی وراثت میں بھانجیوں کا حق ہوتا ہے یا نہیں؟ اور اگر میری پھوپھی کو فل اختیار ہے تو کیا وہ اپنے اختیار کو اس طرح استعمال کر سکتی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے جس چچا کا انتقال ہوا ہے، اگر اس کے ورثاء میں مذکور ایک ہی بہن حیات ہو،اس کے علاوہ ایک بھتیجا اور باقی بھتیجیاں، بھانجے اور بھانجیاں موجود ہوں تو بھتیجے کی موجودگی میں بھتیجیوں اور بھانجوں کا شرعاً وراثت میں کوئی حق نہیں، لہٰذا مذکور چچا کی وراثت اس کے انتقال کے وقت ان کی موجود بہن اور بھتیجے میں تقسیم ہوگی، البتہ اگر یہ دونوں تقسیم کے بعد اپنے حصص میں سے کسی کو کچھ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔
كما قال الله تعالى:يَسۡتَفۡتُونَكَ قُلِ ٱللَّهُ يُفۡتِيكُمۡ فِي ٱلۡكَلَٰلَةِۚ إِنِ ٱمۡرُؤٌاْ هَلَكَ لَيۡسَ لَهُۥ وَلَدٞ وَلَهُۥٓ أُخۡتٞ فَلَهَا نِصۡفُ مَا تَرَكَۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهَا وَلَدٞۚ(سورة النساء:١٧٦)
وفي الدرالمختار: ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده(الى قوله) (ثم جزء أبيه الأخ)لأبوين الخ(فصل في العصبات، ج:٦، ص:٧٧٤،ط:سعيد)
وفي حاشيةابن عابدين: وأشار إلى ما في السراجية وشرحها من أن من لا فرض لها من الإناث وأخوها عصبة لا تصير عصبة بأخيها كالعم والعمة إذا كانا لأب وأم أو لأب وكان المال كله للعم دون العمة وكذا في ابن العم مع بنت العم وفي ابن الأخ مع بنت الأخ ونظمت ذلك بقولي:ولم يعصب غير ذات سهم … أخ كمثل عمة وعم اھ(كتاب الفرائض،ج:٦،ص:٧٧٦،ط:سعيد)
وفي السراجي:ذو الرحم: هو کل قریب، لیس بذي سهم، ولا عصبة، وکانت عامة الصحابة رضی اللہ عنهم یرون توریث ذوي الأرحام، وبه قال أصحابنا رحمهم اللہ(الی قولہ)والصنف الثالث: ینتمي إلی أبوي المیت، وهم أولاد الأخوات وبنات الاخوۃوبنوالاخوۃلام اھ(باب ذوي الأرحام، ص: ٨٥، ط: مکتبة البشری)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2