ہم چار بھائی حیات خان وغیرہ اپنے والد کی وفات کے وقت زندہ تھے، جبکہ ہماری ایک بہن والد کی زندگی میں وفات پا گئی تھی۔ اب اس کے بیٹے اپنی والدہ کے وارث ہونے کے طالب ہیں، اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا نواسی یا نواسہ اپنے ماموں کی موجودگی میں نانا کی جائیداد میں وارث بنتے ہیں یا نہیں؟
جبکہ ان کی والدہ اپنے والد کی وفات سے پہلے وفات پا چکی ہو؟ ہمارا دینِ اسلام اس بات میں ہمیں کیا رہنمائی دیتا ہے؟ وضاحت کر دیجیے، جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ شرعی ضابطہ کے مطابق اگر کسی وارث کا مورث سے قبل انتقال ہو جائے تو اس کا وراثت میں حصہ نہیں ہوتا، اسی طرح مرحوم کی وفات کے وقت اس کی صلبی اور بلا واسطہ نرینہ اولاد حیات اور موجود ہو تو ان کی موجودگی میں اولاد کی اولاد وارث نہیں بنتی، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائل کی بہن کا انتقال چونکہ والد مرحوم کی حیات میں ہو چکا تھا اس لیے سائل کے بھانجے بھانجیاں شرعاً اپنے نانا مرحوم کے ترکے میں حصہ دار نہیں، لہٰذا سائل کے بھانجوں بھانجیوں کا اپنی والدہ مرحومہ کے حصہ کا مطالبہ کرنا کسی طرح درست اور جائز نہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس ناجائز مطالبہ سے دستبردار ہو جائے تا کہ قطع رحمی کے وبال سے حفاظت ہو۔
كما في الهنديه:وذوو الأرحام كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة وهم كالعصبات من انفرد منهم أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار وذوو الأرحام أربعة أصناف: صنف ينتمي إلى الميت وهم أولاد البنات.الخ(الباب العاشر في ذوي الأرحام،ج:٨،ص:٤٥٨،ط:ماجديه)
وفيها ايضاََ(:وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار.فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن.الخ(الباب الثالث في العصبات،ج:٦،ص:٤٥١،ط:ماجديه)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2