محترم جناب السلام علیکم!
بعد از سلام عرض یہ ہے کہ میری والدہ ۔۔۔بلوچ نے ساکران روڈ رشید آباد کے علاقے میں ایک پلاٹ خریدا تھا، انہوں نے وہ پلاٹ بعد میں مجھے دیا اور ابھی میرے بہن بھائی بھی متفقہ طور پر راضی ہیں وہ پلاٹ مجھے دینے پر،اب میں والدہ کے نام پہ وہ پلاٹ اپنے نام ٹرانسفىر کرنا چاہتی ہوں، آپ سے التماس ہے کہ مجھے فتوی لکھ دے کہ میں اپنے نام کرا سکتی ہوں یا تمام بہن بھائی کے؟ جبکہ بہن بھائی راضی ہے میرے نام کروانے پر۔
نوٹ : والدہ نے مجھے دیا تھا،باقی ورثاء اس میں راضی ہیں، لیکن میرے نام پر ٹرانسفیر کرانے والے کہتے ہیں کہ فتوی لىكر آے.والده كا انتقال ہوچكا ہے.
صورتِ مسئولہ میں اگر مرحومہ۔۔۔ بلوچ نے اپنی صحت والی زندگی میں مذکورہ پلاٹ سائلہ کو ہبہ کرکے اس پر باقاعدہ قبضہ بھی دے دیا تھا، تو شرعاً وہ ہبہ مکمل اور لازم ہوچکا ہے، اور وہ پلاٹ سائلہ کی ملکیت شمار ہوگا،چنانچہ مرحومہ کے انتقال کے بعددیگر ورثاء کا اس میں کوئی حق باقی نہیں رہا، لہٰذا سائلہ اس پلاٹ کواپنے نام منتقل کراسکتی ہے۔
البتہ اگرمرحومہ نے مذکورپلاٹ صرف ز بانی طورپرسائلہ کو ہبہ کیاہواس پرزندگی میں باقاعدہ مالکانہ حقوق وقبضہ کااختیارنہ دیاہو،توشرعاً یہ ہبہ تام نہیں ہوا،لہذا مرحومہ کے انتقال کے بعد وہ پلاٹ ان کا ترکہ شمار ہوگا، جس میں تمام ورثاء حسب حصص شرعی حق دار ہوں گے۔
تاہم اگر تمام ورثاء عاقل بالغ هو اور وه اپنی خوشی اور رضامندی سے اپنا اپنا شرعی حصہ سائلہ کے حق میں چھوڑ دیں یا ہبہ کردیں، تو شرعاً یہ بھی درست ہے، اور اس صورت میں پلاٹ سائلہ کے نام منتقل کیا جاسکتا ہے۔
كما في الدر المختار: (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) (إلى قوله) و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (وركنها) هو (الإيجاب والقبول).إلخ. (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 687، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: وفي النتف ثلاثة عشر عقدا لا تصح بلا قبض.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: وفي النتف ثلاثة عشر) أحدها: الهبة (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 690، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (والتمكن من القبض كالقبض فلو وهب لرجل ثيابا في صندوق مقفل ودفع إليه الصندوق لم يكن قبضا) لعدم تمكنه من القبض.اهـ (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 690، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.اهـ (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 696، ط: إيج إيم سعيد)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2