کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے والدین کا انتقال ہو گیا ہے، ورثاء میں ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں موجود ہیں، معلوم کرنا ہے کہ مرحوم والد کا ترکہ مذکور ورثاء میں شریعت کے مطابق کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟ اور اگر کوئی وارث دوسرے ورثاء کے حصوں میں کمی کوتاہی یا خیانت کرتا ہے تو اس کے لیے شرعاً کیا حکم ہے ؟ جو بھی شرعی حکم ہو، تحریر فرمائیں ۔
نوٹ: ترکہ کی مجموعی مالیت منسلکہ صفحہ میں تفصیل سے ذکر کی گئی ہے ۔
اگر کوئی وارث دیگر ورثاء کے حصوں میں کمی کوتاہی یا خیانت کرتا ہے تو ایسے شخص کے بارے میں احادیث میں بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ نبی کریم ﷺ ارشاد نے فرمایا” کسی مسلمان کا مال اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر حلال نہیں“ جبکہ ایک اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ ”جس شخص نے بھی اپنے کسی وارث کا حصۂ میراث کاٹ دیا ( یعنی محروم کردیا) تو اللہ تعالیٰ بروزِقیامت جنت میں سے اس کا حصہ کاٹ دیں گے۔
اس كے بعد واضح ہو كہ مرحوم کے ترکہ میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث ( کفن، دفن کے متوسط مصارف، واجب الادا قرض اور بیواؤں کے مہر کی ادائیگی اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد ) اگر اس کے ترکہ میں یہی رقم مبلغ (15000000) ايك كروڑ پچاس لاکھ روپے بچتے ہوں اور مرحوم کے موجود ہ ورثاء بھی یہی ہوں، ان کے علاوہ کوئی وارث موجود نہ ہو ، تو مذکور رقم میں سے بيٹے كو بياليس لاكھ، پچھیاسی ہزار، سات سو چودہ (4285714.285) روپے اور ہر بيٹى كو اکیس لاکھ، بیالیس ہزار، آٹھ سو ستاون (2142857.142) روپے دیے جائیں ۔
کما قال اللہ تعالیٰ فی التنزیل العزیز: ﴿تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدۡخِلۡهُ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ 13 وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَابٞ مُّهِينٞ 14 ﴾ [النساء: 13-14]
وفی أحکام القرآن للجصاص: قال أبو بكرؒ قد انتظم هذا العموم النھي عن أكل مال الغير بالباطل وأكل مال نفسه بالباطل وذلك لأن قوله تعالى: {أموالكم} يقع على مال الغير ومال نفسه،(الی قولہ) فكذلك قوله تعالى: {لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل} نھي لكل أحد عن أكل مال نفسه ومال غيره بالباطل، وأكل مال نفسه بالباطل إنفاقه في معاصي الله(مطلب البيان من الله تعالى على وجهين،ج2،ص215-216،ط:دار الکتاب العلمیۃ،بیروت)
وفی سنن ابن ماجۃ: عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: قال رسول الله ﷺ: "من فر من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة". [(باب الحیف فی الوصیۃ، رقم 2703، ص 549، ط: البشریٰ)]
و فی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله ﷺ: (من أخذ شبراً من الأرض ظلما؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضین)۔ (کتاب البیوع، باب الغصب و العاریۃ، ج 1، ص 254، ط: قدیمی)
وفي البحر الرائق: لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي. [(5/ 44)]
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2