کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے۔اس کے ورثاء میں بوقتِ انتقال اس کی بیوہ،چھ بیٹیاں اور چار بیٹے موجود تھے ،جبکہ مرحوم کے کل ترکہ میں ایک جگہ ہے جس کی قیمت ساٹھ لاکھ (6000000) روپے ہیں،اب اس کی شرعی اعتبار سے موجودہ ورثاء میں تقسیم کیسی ہوگی؟ براہ کرم اس تقسیم کے بارے میں آگاہ کریں۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجودہ ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جو کچھ منقولہ و غیرِ منقولہ مال وجائیداد سونا ، چاندی ، نقد رقم اور ہر قسم کاچھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کاحق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ،اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائزوصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، ا س کے بعد جو کچھ بچ جائے، اس کے کل سولہ ( 16) حصے بنائے جائیں ، جن میں سے بیوہ اور ہر بیٹے کو دو (2)حصے جبکہ ہر بیٹی کو ایک(1) ا حصہ دیاجائے ۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2