احکام وراثت

والدمرحوم کےمکان پر خرچ کی ہوئی رقم کوبطور قرض شمار کرنا

فتوی نمبر :
92439
| تاریخ :
2026-02-21
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والدمرحوم کےمکان پر خرچ کی ہوئی رقم کوبطور قرض شمار کرنا

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل وراثت کے مسئلہ میں کہ میرے والد مرحوم کا ایک سال قبل انتقال ہوا ، انہوں نے ایک مکان ترکہ میں چھوڑا ہے ، انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں صرف ایک بیٹا(میں)اور دو بیٹیاں حیات تھیں اور یہ سب اب بھی موجود ہیں ، ان ورثاء کے علاوہ کوئی اور شرعی وارث نہیں تھا ، اس مکان پر میں نے گیارہ لاکھ ستر ہزار(1170000) روپے والدمرحوم کی زندگی میں خرچ کیے تھے ، خرچ کرتے وقت میں نے والد مرحوم سے کہا تھا کہ میرے یہ پیسے مجھے ملیں گے یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو بظاہر کچھ نہیں، البتہ بعد میں بہنوں سے پوچھ کر مکان میں سے اپنا حساب لے لینا، چناں چہ والد مرحوم کی زندگی ہی میں، میں نے بہنوں سے با ت کی تو انہوں نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے اور اب بھی وہ اس بات کو مان رہی ہیں ۔ لہذا آپ حضرات سے گزارش ہے کہ شرعی اعتبار سے بتائیں کہ کیا میں اب گیارہ لاکھ ستر ہزار روپے تقسیم سے قبل ترکہ میں سے اپنے اخراجات کی مد میں وصول کرسکتا ہوں؟دوسری بات یہ کہ مکان بک گیا ہے اور ہرقسم کے اخراجات نکال کر صافی رقم اکیاسی لاکھ اٹھاون ہزار(8158000)روپے بچتے ہیں تو اس کو ایک بیٹا(میں) اور دو بیٹیوں کے درمیان کس تناسب سے تقسیم کرینگے ؟ ہر ایک کا حصہ بتادیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل نے واپسی کی صراحت کے ساتھ والدمرحوم کےمکان پررقم خرچ کی ہو اور ان کے انتقال کے بعد دیگر ورثاء بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے اس قرض کو تسلیم کرتے ہو تو اس صورت میں وہ تقسیم ترکہ سے قبل اپنے قرض کی رقم وصول کرسکتاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار:(عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء فلا رجوع له
وفی ردالمحتارتحت قولہ (والنفقة دين عليها): لأنه غير مقطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها، فصار كالمأمور بقضاء الدين زيلعي، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع وفي المسألة اختلاف وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين،اھ(ج:1، مسائل شتی، ص:747، مط:سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92439کی تصدیق کریں
0     153
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات