احکام وراثت

وراثت کے مال سے سونے کی چین اپنے قبضہ میں رکھنااوراس پرحقِ ملکیت کادعوی

فتوی نمبر :
92480
| تاریخ :
2026-02-22
معاملات / ترکات / احکام وراثت

وراثت کے مال سے سونے کی چین اپنے قبضہ میں رکھنااوراس پرحقِ ملکیت کادعوی

السلام علیکم ! ہم چھ بہنیں اور پانچ بھائی ہیں ،ہم میں سے ایک بہن اور ایک بھائی کا انتقال ہو چکا ہے، اب ہم پانچ بہنیں اور چار بھائی ہیں، میرا چھوٹا بھائی امی کا سارا خرچہ اٹھا تاتھا ،ہر طرح کے علاج سے لے کر تدفین تک کا سارا خرچہ میرے چھوٹے بھائی نے ہی کیا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میری امی کا ابھی تین چار مہینے پہلے انتقال ہوا ہے، انتقال سے دس دن پہلے انہوں نے مجھ سے بڑے بھائی جو ان کے ساتھ رہتا ہے، اس کو کہا کہ میری چین، میرا نام لے کر کہا کہ اس کو دے دینا، بھائی نے تین چار بار پوچھا کہ آپ تو ہمیشہ کہتی رہی کہ اس پر ساری بیٹیوں کا حق ہے، لیکن انہوں نے ہر بار میرا ہی نام لیا ،اتفاقا وہاں میرا چھوٹا بھائی بھی آگیا اور پھر بڑے بھائی نے میرا نام لے کر بتایا کہ اماں یہ چین اس کو دینے کا کہہ رہی ہے تو اس نے کہا ٹھیک ہے جس کو کہہ رہی ہے، اسی کو دے دو، مگر انتقال کے بعد جب بڑے بھائی نے چین میرے حوالہ کی ،تو وہی چھوٹا بھائی اس پر راضی نہ ہوا جبکہ بڑے بھائی نے بولا بھی کہ تمہارے سامنے اماں نے چین اس کو دینے کا بولا تھا ،تو اس چھوٹے بھائی نے کہا کہ میں نے غور سے سنا نہیں تھا ،میرے چھوٹے بھائی کا دعوی ہے کہ چین اس نے بنائی ہے، لیکن اگر ایسا ہوتا تو میرے یا دوسری بہنوں کے علم میں ضرور ہوتا۔ اس چھوٹے بھائی کا کہنا ہے کہ سارے خرچے میں اٹھاتا ہوں تو چین کا حقدار بھی میں ہی ہوں ،اس بات پرکافی جھگڑا بھی ہوا ،میری اماں کو ایک دکان کا کرایہ بھی آتا تھا اور تھوڑا خرچہ جو بھائی ساتھ رہتا تھا ،وہ کرتا تھا اور تھوڑا بہت چھوٹا بھائی ،میری اماں نے کمیٹی وغیرہ ڈال کر چین اور بالیاں کان کی بنوائی تھی اور ہاں چوڑیاں میرے چھوٹے بھائی نے ہی بنوا کر دی تھی جو کہ اسی چھوٹے بھائی کے گھر گم ہو گئیں جس کا اس بھائی نے بتایا کہ ان کا زیور چوری ہو گیا ہے اس میں اماں کی چوڑیاں بھی تھی ،باقی کان کی بالیاں دوسرے بڑے بھائی کےگھر گم ہو گئیں تھیں ، اب صرف چین رہ گئی ہے جس کا انہوں نے میرا نام لے کر کہا یہ چین مجھے دے دینا ۔
میرا سوال یہ ہے کہ یہ چین جو مجھے حوالہ کی گئی ہے، اس چین کا حقدار کون ہے ؟ میں، میرا چھوٹا بھائی، یا ہم سب بہن بھائی، جو حیات نہیں بہن بھائی کیا وہ بھی ؟ایک بہن اور ایک بھائی کا انتقال اماں کے انتقال سے پہلے ہوچکا ہے۔ شکریہ۔
نوٹ: سائلہ سے فون پربات کرنے سے معلوم ہواکہ مذکورچین والدہ نے انتقال کے بعددینے کاکہاتھااور بھائی نےوالدہ کے انتقال کے بعدان کے حوالے کی تھی ،زندگی میں وہ والدہ کے قبضہ میں ہی رہی تھی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں چونکہ مرحومہ نے مذکورہ چین اپنی زندگی میں سائلہ کے قبضہ میں نہیں دی، بلکہ انتقال کے بعد دینے کا کہا تھا اور وہ وفات تک اُن ہی کے قبضہ میں رہی، لہٰذا یہ شرعاً وصیت کے حکم میں ہےاور وارث کے حق میں وصیت دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں ہوتی۔ نیزچھوٹے بھائی کا یہ کہنا کہ چونکہ اُس نے والدہ مرحومہ کے سارے خرچے اُٹھائےہیں، اس لیے وہ چین کا حق دار ہے، یہ بھی شرعاً درست نہیں؛ کیونکہ اپنی مرضی وخوشی سے والدہ مرحومہ پرکیے گئے خرچے اس کی جانب سے تبرع (احسان) شمار ہوں گے،الا یہ کہ اس نےپہلےسے واپسی کی صراحت کی ہو،تواس صورت میں وہ ترکہ سےان اخراجات کی ادائیگی کامطالبہ کرسکتاہے،لہٰذا یہ چین مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہوگی اور تمام زندہ ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔ جو بہن بھائی والدہ سے پہلے فوت ہوچکے تھے وہ وارث نہیں ہوں گے۔البتہ اگر تمام بالغ ورثاء باہمی رضامندی سےوالدہ مرحومہ کی خواہش کومدنظررکھتے ہوئے مذکورچین سائلہ کے حق میں چھوڑ دیں تو ایسا کرنابھی جائز ہے،لیکن ایساکرناان پرلازم وضروری نہیں،چنانچہ سائلہ کازبردستی اس چین کواپنے قبضہ میں رکھنااوراس پرحقِ ملکیت کادعوی رکھناجائزنہیں ،جس سے بہرصورت احترازلازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته.اهـ (كتاب الوصايا، ج: 6، ص: 655-656، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الهندية: ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، (إلى قوله) ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي (إلى قوله) ويعتبر كونه وارثا أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية.اهـ (كتاب الوصايا، ج: 6، ص: 90، مكتبة ماجدية)
وفيها أيضا: ولو أجاز البعض ورد البعض يجوز على المجيز بقدر حصته وبطل في حق غيره، كذا في الكافي وفي كل موضع يحتاج إلى الإجازة إنما يجوز إذا كان المجيز من أهل الإجازة نحو ما إذا أجازه وهو بالغ عاقل صحيح، كذا في خزانة المفتين.اهـ (ج: 6، ص: 91، مكتبة ماجدية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92480کی تصدیق کریں
0     122
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • زندگی میں تقیسم جائیداد کا حکم اور طریقہ

    یونیکوڈ   انگلش   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء =بیوہ, 2 بھائی 1 بہن)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
Related Topics متعلقه موضوعات