کسی شخص نے غصے میں کہه دیا کہ ہاں میں خدا ہوں ۔۔۔۔ ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے ؟
کسی شخص کا یہ کہنا کہ"میں خدا ہوں" نہایت سنگین اور خطرناک کلمہ ہے، جو اگر شعوری طور پر، اپنے معنی و مفہوم کے قصد کے ساتھ کہا جائے تو صریح کلمۂ کفر ہے، جس سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔
البتہ اگر یہ الفاظ شدید غصہ، ذہنی اختلال یا بے اختیاری کی ایسی حالت میں صادر ہوئے ہوں کہ قائل کو اپنے کلام کا ادراک ہی نہ رہاہو، تو اس صورت میں حکم میں تخفیف کی گنجائش ہے، اور کفر کا حکم لگانے میں احتیاط کی جائےگی ۔
بہر حال ایسے شخص پر لازم ہے کہ فوراً سچے دل سے توبہ و استغفار کرے،ایمان کی تجدید کرے، اور آئندہ ایسی گستاخانہ بات سے پرہیز کرے۔
تاہم اگر یہ الفاظ ہوش و حواس میں قصد اورارادے کے ساتھ کہے گئے تھے تو تجدیدِ ایمان کے ساتھ ساتھ تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہوگا۔
كما في الدر المختار: (وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) إلخ.
وفي رد المحتار: (قوله والطوع) أي الاختيار (إلى قوله) وفي البحر عن الجامع الأصغر: إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمدا، لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض أصحابنا: لا يكفر لأن الكفر يتعلق بالضمير ولم يعقد الضمير على الكفر، وقال بعضهم: يكفر وهو الصحيح عندي لأنه استخف بدينه. ثم قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر (إلى قوله) ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل.اهـ (كتاب الجهاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 224، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: قال الكرخي: هذا قول أصحابنا جميعا إن المرتد يستتاب أبدا، وما ذكره الكرخي مروي في النوادر. قال إذا تكرر ذلك منه يضرب ضربا مبرحا ثم يحبس إلى أن تظهر توبته ورجوعه اهـ وذلك لإطلاق قوله تعالى - فإن تابوا وأقاموا الصلاة [التوبة: 5]- الآية.اهـ (باب المرتد، ج: 4، ص: 225، ط: إيج إيم سعيد)
وفي مجمع الأنهر: في مجمع الأنهر: أو أطلق على المخلوق من الأسماء المختصة بالخالق نحو القدوس والقيوم والرحمن وغيرها يكفر.اهـ (ألفاظ الكفر أنواع، ج: 1، ص: 690، ط: دار الطباعة العامرة بتركيا)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1