السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ایک وراثتی جائیداد کے بارے میں عدالت کی معاونت سے اور تمام ورثاء کی باہمی رضامندی سے شریعتِ اسلامی کے مطابق تقسیم ہونے کا فیصلہ ہو چکا ہے، اور ہر وارث کا شرعی حصہ بھی متعین کر دیا گیا ہے۔ تاہم ابھی جائیداد کی ٹرانسفر / میوٹیشن کا مرحلہ مکمل ہونا باقی ہے۔
اس مرحلے پر بعض بھائی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ والدہ بھی اتنی ہی رقم ٹرانسفر یا میوٹیشن کے اخراجات کے لیے ادا کریں جتنی رقم باقی بھائی ادا کر رہے ہیں، حالانکہ شرعی تقسیم کے مطابق والدہ کا حصہ بھائیوں کے حصے سے کم مقرر ہوا ہے۔
براہِ کرم شریعتِ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں:
کیا اس صورت میں والدہ سے ٹرانسفر یا میوٹیشن کے اخراجات کے لیے بھائیوں کے برابر رقم لینا جائز ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ ترکہ میں ملنے والی جائیداد کی ملکیت کی منتقلی پرآنے والے اخراجات تمام ورثاء پر ان کے حصوں کے تناسب سے لازم ہوتے ہیں ، لہذا صورت مسئولہ میں والدہ سے ٹرانسفر کے اخراجات کے لیے بھائیوں کے برا بر رقم لینا جائز نہیں ، بلکہ والدہ پر اپنے حصے کے بقدر ہی اخراجات شرعاً لازم ہوں گے ۔
كما في درر الحكام: تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك، (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم.اھ(الكتاب العاشر الشركات، الفصل الثاني في بيان كيفية التصرف في الأعيان، ج:٣، ص: ٢٦، مط: دار الجيل)
وفي شرح القواعد الفقهية: (" الغرم بالغنم ")" الغرم " وهو ما يلزم المرء لقاء شيء، من مال أو نفس، مقابل " بالغنم " وهو ما يحصل له من مرغوبه من ذلك الشيء.اه(القاعدة السادسة والثمانون (المادة / ٨٧، ص: ٤٣٧، مط: دار القلم )
وفي شرح المجلة: "الملك المشترك متى احتاج الى التعميروالترميم ، يعمره اصحابه بالاشتراك على مقدار حصصهم ، لأن منفعة كل منهم على قدر حصصه.(ج:١، ص: ٢٤٦)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2