السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!امید ہے کہ خیریت سےہوں گے،ایک صاحب کا سوال روزے کی حالت میں زنا کرنے یا مشت زنی کے حوالے سے ہے، کہ اگر بلوغت کے پہلے دنوں میں کسی کو معلوم نہ ہو کہ کن کن چیزوں سے روزے کو نقصان پہنچتا ہے، اور وہ خطا میں درجہ بالا گناہوں کا شکار ہو جائے، اور اسے ایک یا دو سال بعد علم ہو جائے کہ وہ تو گناہ گار ہوگیا ہے، تو کیا گناہ سے توبہ کرنے پر وہ معاف ہو جائے گا یا کفارہ وغیرہ لازمی ہے؟ رہنمائی فرمائیں ۔جزاک اللّٰہ خیر ا
صورتِ مسئولہ میں شخص مذکور اگر دورانِ روزہ مشت زنی کر بیٹھا ہو، جس کے نتیجہ میں اسے انزال ہوگیا ہو تو ایسی صورت میں اس کا روزہ فاسد ہو چکا ہے، اور اس پر فقط اس روزے کی قضاء لازم ہوگی، کفارہ لازم نہ ہوگا، البتہ زناء کی صورت میں اگر باقاعدہ دخول کیا ہو تو اس کی وجہ سے اس کے ذمہ اس دن کے روزے کی قضا کے ساتھ بطورِکفارہ مسلسل ساٹھ روزے رکھنے لازم ہونگے،اگر کسی بھی وجہ سے تسلسل نہ رہے،تو ازسرِنو ساٹھ روزے رکھنے ہو گے،تاہم اگرشخص مذکور کسی ضعف وغیرہ کی وجہ سے مسلسل ساٹھ روزے رکھنے پر قادر نہ ہو توپھر ساٹھ فقراء ومساکین جو مستحق ز کوۃ ہوں،ان میں کوئی غیرمسلم شامل نہ ہو،انکو دو وقت پیٹ بھرکر کھانا کھلانا،یا صدقہ فطر کے بقدر ان میں سے ہر ایک کو رقم دینا لازم ہے، نیز مذکور دونوں صورتوں میں فقط توبہ سے روزہ معاف نہیں ہوگا، بلکہ قضاء اور دوسری صورت میں کفارہ بھی لازم ہوگا، جبکہ ماہِ رمضان اور روزہ کی حالت میں اس قبیح فعل کی شناعت بھی مزید بڑھ جاتی ہے، جس پر اس شخص کو بصدقِ دل توبہ و استغفار کرتے ہوئے آئندہ کیلئے اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: و کذا الاستمناء بالکف و ان کرہ تحریما لحدیث"ناکح الید ملعون"اھ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ و کذا الاستمناء بالکف) أی فی کونہ لا یفسد لکن ھذا إذا لم ینزل أما إذا أنزل فعلیہ القضاء کما سیصرح بہ و ھو المختاراھ (ج 2، ص 399،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفیہ أیضاً: (وإن جامع) المكلف آدميا مُشتهى (في رمضان أداء) لما مر (أو جومع) أو توارت الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أولا (إلى قوله)قضى في الصور كلها (وكفر)اھ
وفي الشامية:تحت(قوله:ككفارة المظاهر) مرتبط بقوله وكفر أي مثلها في الترتيب فيعتق أولا فإن لم يجد صام شهرين متتابعين فإن لم يستطع أطعم ستين مسكينااھ (کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج 2، ص 409، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
و فی التاتار خانیۃ: إذا عالج ذکرہ بیدہ حتی أمنی قال الشیخ ابوبکر و الشیخ الامام ابوالقاسم لایفسد صومہ و عامۃ مشایخنا استحسنوا و أفتوا بالفساد اھ(ج 3، ص 385، ط: رشیدیہ)۔
وفی الھندیۃ: من جامع عمداً في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولايشترط الإنزال في المحلين، كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعةً، وإن كانت مكرهةً فعليها القضاء دون الكفارة اھ (كتاب الصوم، النوع الثاني ما يوجب القضاء والكفارة، ج 1، ص 205، ط: دار الفكر بيروت)۔
روزے کی حالت میں استنجاء کے وقت عورت کا گیلی انگلی شرمگاہ میں داخل کرنا- اس کے لۓ استنجاء کا طریقہ
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0روزہ کی حالت میں سورج غروب ہونے سے پہلے اور صبح صادق کے بعد کھانا یا کچھ پی لینا
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0روزے کی حالت میں اجنبیہ عورت کو بوسہ کے بعد نکلنے والے پانی سے روزی فاسد ہوتا ہے یا نہیں ؟
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0کیا روزے کی حالت میں ہم بستری کرتے ہوئے باہر فارغ ہونے سے کفارہ لازم ہوگا؟
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0عادۃً بلا ارادہ عضوِ خاص کو ہلانے سے انزال ہو جائے تو روزے کا حکم؟
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0