وضو

کولسٹومی بیگ کی وجہ سے وضو اور نماز کا حکم

فتوی نمبر :
92590
| تاریخ :
2026-02-24
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

کولسٹومی بیگ کی وجہ سے وضو اور نماز کا حکم

کولسٹومی بیگ کی وجہ سے میں اپنی ہوا اور پاخانہ کو کنٹرول نہیں کر پا رہا ہوں میرے لیے نماز اور وضو کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کولسٹومی بیگ بیمار کے فضلہ (پائخانہ) کے اخراج کے لئے پائپ کی طرح بالکل باریک نالی کی صورت میں بیمار کی انتڑیوں تک پہنچایا جاتا ہے ، اس طرح مریض عمومی طورپرفضلہ وغیرہ روکنے کی طاقت نہیں رکھتا، بلکہ اس نالی کے ذریعے خود بخود بیگ میں جمع ہوجاتا ہے، لہٰذا اس کیفیت کا حامل شخص شرعاً معذور شمار ہوگا،اس لیے سائل شرعاً معذور ہے اور معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت کے لئے الگ سے وضوء کرلیا کرے اور اس وقت میں فرض نفل ہر طرح کی نمازیں اس وضوء سے ادا کرسکتا ہے اور اس دوران اس عذر کی وجہ سے اس کا وضوء بھی نہیں ٹوٹے گا ہاں اگر کوئی دوسرا ناقضِ وضوء پیش آ گیا یا وقت ختم ہو ، تو اس کا وضوء ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ وضوء کرنا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملا وهو الأظهر(الی قولہ) المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق.(الی قولہ) ويبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق. هكذا في الهداية وهو الصحيح. (الی قولہ) حتى لو توضأت والدم منقطع ثم خرج الوقت وهي على وضوء لها أن تصلي بذلك ما لم يسل أو تحدث حدثا آخر. كذا في التبيين.الخ(الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة،وممایتصل،احکام،المعذور،ج:1ص:40/41،مط:مکتبہ ماجدیہ)
وفی الھدایۃ: والمستحاضة ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل الخ(فصل في الاستحاضة،ج:1،ص:67،مط:کتب خانہ مجیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ الف زر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92590کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات