مفتی صاحب ، میری والدہ 4 بھائیوں کی اکلوتی چھوٹی بہن ہیں ،جب یہ چند سال کی تھیں تو ان کی والدہ (مطلب میری نانی) کو طلاق ہو گئی اور ان کے سسرال نے میری والدہ کو ان کی والدہ (مطلب میری نانی) کو دے دیا کہ ان کو ساتھ ہی لے جائیں ، ہم نہیں رکھتے (مطلب اس کا ہم سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے) تو یہ پھر اپنے ماموؤں کے ہاں پلی بڑھیں ،پھر جب یہ جوانی کی عمر کو پہنچیں تو میری نانی کی دوسری شادی ہو گئی اور یہ بھی کچھ عرصہ بعد ان کے ساتھ اپنے سوتیلے والد کے گھر آ گئیں اور ان کے شناختی کارڈ میں ان کی ولدیت کے خانہ میں ان کے سوتیلے والد کا نام آ گیا ،پھر یہاں ان کی شادی کروا دی گئی اور پھر ان کے سب بھائی بھی یکے بعد دیگرے ان سے راضی ہو گئےاور ان کی ملاقات ان کے حقیقی والد سے بھی ہو گئی،پھر جب ایک عرصہ بعد ان کے حقیقی والد کا انتقال ہوا تو ان کے ایک بھائی (جو کچھ پڑھے لکھے تھے) جائیداد کی وارثت تقسیم کرتے ہوئے پٹواری کے سامنے میری والدہ کو ماننے سے انکار کر دیا کہ ہم صرف 4 ہی بھائی ہیں اور جائیداد کے علاوہ کی بھی دیگر وراثت میں سے کچھ حصہ نہیں دیا ،اب اس سارے معاملہ کو دیکھتے ہوئے میری والدہ اور ان کے بھائیوں پر شریعت کی طرف سے کیا احکام لاگو ہوتے ہیں ، کیا ان کو شناختی کارڈ سے ولدیت تبدیل کروانا چاہئیے ؟ان کا اپنے بھائیوں سے اپنا حق لینا کیسا ہے ؟ اگر بھائی نہ دیں تو یہ کیسا ہے ؟ کیا بھائیوں کی آمدنی پر فرق پڑے گا؟
واضح ہو کہ زیرِ کفالت بچہ/بچی کے سرکاری کاغذات میں ولدیت کے خانے میں حقیقی والد ہی کا نام درج کروانا لازم ہے اور کسی کا اپنے آپ کو غیر حقیقی والد کی جانب منسوب کرنا شرعاً ناجائز و حرام فعل ہے، لہٰذا سائل کی والدہ کے شناختی کارڈ میں بطور ولدیت سوتیلے والد کا نام درج کرانا شرعاً چونکہ جائز نہ تھا، اس لیے اب اگر تبدیلی ممکن ہو تو اسے تبدیل کرکے حقیقی والد کا نام لکھوانا لازم اور ضروری ہے،تاہم شناختی کارڈ میں فقط سوتیلے والد کے نام درج کرنے کی وجہ سے سائل کی والدہ اپنے حقیقی والد کے ترکہ سے محروم نہ ہوگی، لہٰذا ان کے بھائیوں کا والد کی میراث کی تقسیم کے وقت بہن کو اس کے حصۂ شرعی سے محروم کرنا شرعاً ظلم اورغصب پرمبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، جس کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، جس کی بناء پر وہ سب گناہ گار ہو رہے ہیں ،لہٰذا ان پر لازم ہے کہ اپنے مذکورہ عمل کو فوراً ترک کرتے ہوئے اپنی بہن کو اس کا حق حوالہ کر دیں، تاکہ مؤاخذۂ اُخروی سے سبکدوشی حاصل کر سکیں، بصورتِ دیگر بہن کو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہوگا۔
كماقال الله تعالى في القرآن المجيد:ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ(سورة الاحزاب:٥)
وفي احكام القران للقرطبى:وقال النحاس: هذه الآية ناسخة لما كانوا عليه من التبني وهو من نسخ السنة بالقرآن فأمر أن يدعوا من دعوا إلى أبيه المعروف فإن لم يكن له أب معروف نسبوه إلى ولائه فإن لم يكن له ولاء معروف قال له يا أخي يعني في الدين قال الله تعالى: (إنما المؤمنون إخوة) اھ (سورة الاحزاب:٥،ج:١٤،ص:١١٩،ط:دار الكتب المصرية)
وفي صحيح البخارى: عن أبي ذر رضي الله عنه:أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: (ليس من رجل ادعى لغير أبيه - وهو يعلمه - إلا كفر، ومن ادعى قوما ليس له فيهم نسب، فليتبوأ معقده من النار).(كتاب المناقب، باب: نسبة اليمن إلى إسماعيل،ج:٢،ص:٢،مط:البشرى)
وفی مشكاة المصابيح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»( باب الغصب والعارية:الفصل الاول،ج:١،ص:٢٥٤،ط:قديمى كتب خانه)
وفي عمدةالقارى:قوله: (ادعى) أي: انتسب لغير أبيه(الى قوله) والحال أنه يعلم أنه غير أبيه، وإنما قيد بذلك لأن الإثم يتبع العلم(الى قوله) فالوجه على عدم هذه اللفظة أن المراد بالكفر: كفران النعمة، أو لا يراد ظاهر اللفظ، وإنما المراد المبالغة في الزجر والتوبيخ، أو المراد أنه فعل فعلا يشبه فعل أهل الكفر، والوجه على تقدير وجود هذه اللفظة فهو أن يحمل على أنه إن كان مستحلا مع علمه بالتحريم اھ(باب نسبة اليمن إلى إسماعيل صلى الله عليه وسلم،ج:١٦،ص:٧٩،ط:التراث)
وفي تكملةحاشية ابن عابدين: وفيها: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ.( باب دعوى النسب،ج:٨،ص:٢٠٨،ط:دار الفكر)
وفي الهندية:وأما حكمه فالإثم والمغرم عند العلم وإن كان بدون العلم بأن ظن أن المأخوذ ماله أو اشترى عينا ثم ظهر استحقاقه فالمغرم ويجب على الغاصب رد عينه على المالك وإن عجز عن رد عينه بهلاكه في يده بفعله أو بغير فعله فعليه مثله إن كان مثليا كالمكيل والموزون فإن لم يقدر على مثله بالانقطاع عن أيدي الناس فعليه قيمته يوم الخصومة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى -: يوم الغصب وقال محمد - رحمه الله تعالى -: يوم الانقطاع كذا في الكافي.وإن غصب ما لا مثل له فعليه قيمة يوم الغصب بالإجماع كذا في السراج الوهاج الخ(كتاب الغصب،ج:٥،ص:١١٩،ط:،،ماجدية)
وفي الاشباه والنطائر:لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك الخ(ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود،ص:٢٧٢،ط:دار الكتب العلمية)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2