کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے بواسیر کی بیماری ہے، جس کی وجہ سے میرا وضو برقرار نہیں رہتا اور بار بار ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے ہر نماز کے لیے مجھے بار بار وضو کرنا پڑتا ہے۔کئی سالوں سے اللہ کے فضل سے میں رمضان المبارک میں اعتکاف کرتی آ رہی ہوں، لیکن اس سال اس بیماری کی وجہ سے وضو بار بار ٹوٹنے کی وجہ سے پریشانی ہو رہی ہے۔براہِ کرم شریعت کی روشنی میں یہ رہنمائی فرما دیں کہ میرے لئے کیا حکم ہے؟ کیا اس حالت میں میرے لیے اعتکاف کرنا درست ہے یا نہیں؟
نیز واضح رہے کہ جس خاتون کو یہ بیماری ہے، ان کی عمر تقریباً 60 سال ہے۔جواب 20 رمضان سے پہلے مطلوب ہے۔
سائلہ کو بواسیر کی بیماری اگر اس حد تک ہو کہ وہ طہارت کے ساتھ فرض نماز بھی نہ پڑھ سکتی ہو، اور اس کا عذر پورے نماز کےو قت میں رہتاہو تو وہ شرعاً معذور ہے اور معذور کا حکم یہ ہے کہ وہ ہر وقتیہ نماز کیلئے وضو کرے اور وقت کے اندر فرض، نفل نماز اور دیگر عبادات بجالائے جب دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے تو اس کیلئے نیا وضو کرے،اسی طرح ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد نیا وضو کرکے وقت کے اندر ہر طرح کی عبادات ادا کر سکتی ہے،وقت کے اندرمذکور عذر کے بار بار صادر ہونے کے باوجود بھی وضو نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ اگر اِس کے علاوہ کوئی دوسرا مفسد وضو پیش آئے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا جس کے بعد نماز وغیرہ عبادات کی ادائیگی کےلئے وضو کرنا لازم ہے۔لہٰذا سائلہ کےلئے بواسیر کی بیماری کی حالت میں اعتکاف کرنا تو بلا شبہ جائز ہے،البتہ نماز وغیرہ عبادات کی ادائیگی کےلئے مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق عمل کرنے کا اہتمام کرے۔
کما فی الهدایة: والمستحاضة من به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذی لا یرقا یتوضئون لوقت کل صلوة فیصلون بذلك الوضوء فی الوقت ماشاؤ من الفرائض الخ. (۱/ ۶۷)