السلام علیکم ! مفتی صاحب ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی چاہیئے کہ: اگر ایک عورت حاملہ ہو ،لیکن اس کے باوجود اس کوخون آرہا ہو ،تو کیا اس کی وجہ سے روزہ پر کوئی اثر پڑیگا ؟کیا اسے روزہ رکھنا چاہیئے؟
واضح ہوکہ عورت کو حالتِ حمل میں آنے والاخون شرعی اصطلاح میں استحاضہ (بیماری کا خون) کہلاتاہے،جس کی وجہ سے نماز ، روزہ اور دیگر عبادات کی صحت متاثر نہیں ہوتی ،لہٰذا سوال میں مذکور عورت کو دورانِ حمل آنے والاخون استحاضہ (بیماری کاخون)کہلائیگا ،جس کی وجہ سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ روزہ شرعا درست ہوگا۔
کما فی الدر:(وما تراه) صغيرة دون تسع على المعتمد وآيسة على ظاهر المذهب (حامل) ولو قبل خروج أكثر الولد (استحاضة) الخ(کتاب الطھارۃ،باب الحیض، ج1، ص285،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفیه ایضا: (ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتا كاملا (لا يمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) لحديث: توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير الخ(کتاب الطھارۃ،باب الحیض، ج1، ص298،ط:ایچ ایم سعید)۔
روزے کی حالت میں استنجاء کے وقت عورت کا گیلی انگلی شرمگاہ میں داخل کرنا- اس کے لۓ استنجاء کا طریقہ
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0روزہ کی حالت میں سورج غروب ہونے سے پہلے اور صبح صادق کے بعد کھانا یا کچھ پی لینا
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0روزے کی حالت میں اجنبیہ عورت کو بوسہ کے بعد نکلنے والے پانی سے روزی فاسد ہوتا ہے یا نہیں ؟
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0کیا روزے کی حالت میں ہم بستری کرتے ہوئے باہر فارغ ہونے سے کفارہ لازم ہوگا؟
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0عادۃً بلا ارادہ عضوِ خاص کو ہلانے سے انزال ہو جائے تو روزے کا حکم؟
یونیکوڈ روزہ کے مفسدات و مکروهات 0