نانا ابو وفات پا گئے ہیں ،اس سے پہلے میری امی وفات پا گئی تھی ، ان(نانا ابو) کی جو جائیداد تھی ،اس کی وراثت ہوئی ہے ، نواسوں کا شرعی طور پر تو حصہ نہیں ہوتا ، لیکن قانونی طور پر ان کا حصہ ہوتا ہے ، نواسوں نے ماموں والوں کو کہا کہ ہم آپ سے حصہ نہیں لینا چاہتے، لیکن ماموں نے کہا کہ ہم آپ کو ہدیہ کے طور پر دیں گے، کیا یہ ہدیہ لینا جائز ہے یا نا جائز ؟
صورتِ مسئولہ میں ماموں اور بقیہ ورثاء اگر دلی رضامندی سے اپنی مرحومہ بہن کی اولاد (بھانجے بھانجیوں) کو اپنے والدِ مرحوم کی میراث میں سے کچھ حصہ بطورِ ہدیہ دینا چاہیں تو شرعاً اسمیں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ ان کے ساتھ صلہ رحمی پرمبنی ہونے کی وجہ سے زیادہ باعث ِاجر و ثواب ہے۔
کما فی قولہ تعالٰی: وإذا حضر القسمة أولوا القربى واليتامى و المساكين فارزقوهم منه۔ الآیۃ (النساء:8)
وفی الدر المختار: (و ركنها) هو (الإيجاب و القبول) الی قولہ (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل اھ (کتاب الھبۃ، ج:5، ص:688،690، م:سعید)۔
وفی رد المحتار: و شروطہ ثلاثۃ: موت مورث حقیقیۃ، أو حکما کمفقود أو تقدیراً کجنین فیہ و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ أو تقدیراً اھ (کتاب الفرائض،ج6، ص:ـ758،م:سعید)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1