احکام وراثت

مکان نام کرنے سے ملکیت اور کسی بیٹے کو محروم کرنے کی وصیت کا حکم

فتوی نمبر :
93126
| تاریخ :
2026-03-10
معاملات / ترکات / احکام وراثت

مکان نام کرنے سے ملکیت اور کسی بیٹے کو محروم کرنے کی وصیت کا حکم

السلام علیکم! حضرات کرام عرض یہ ہے کہ ہمارا ایک گھر ہے جو کہ والد نے اپنے انتقال کے وقت والدہ کے نام کر دیا تھا اور کچھ کاغذات پر والد کا سائن ہے (دستخط ) کہ جس سے ہم تمام بھائی بے خبر ہیں کہ والد نے ہمیں آگاہ کیوں نہیں کیا تھا حالانکہ ہمارے والد نہایت نڈر ، مخلص اور سچی بات اور سامنے بات کرنے والے شخص تھے وہ کاغذات یہ ہیں کہ والد نے کہا ہے کہ میں نے اپنے تمام بچوں پر اُنکی ضروریات کیلئے رقوم خرچ کی ہیں مثلاً محمد زرین کی ٹانگ کا فیکچر ہوا تھا تو میں نے اُسکے لئے آدھا گھر بھیج کر اُسکا علاج کیا ہے لہٰذا محمد زرین خان کا حصہ وراثت خارج ہو گیا اب میرے گھر میں محمد زرین کا کوئی حق نہیں ہے ، ہکذا دوسروں کے بارے ، میں تو محترم ان کا غذات سے ہم نا واقف ہیں کہ والد نے ہمیں کیوں نہیں بتایا تھا ، اور اسکے برعکس جب والدہ کا انتقال قریب تھا تو والدہ نے ہمارے خاندان کے بزرگ اور محلے کے تبلیغی جماعت کے امیر کو اپنے گھر بلا کر یہ وصیت کی کہ میرا یہ گھر میرے نام پر ہے اب میں یہ گھر تمام بچوں کے وراثت میں دیتی ہوں اس گھر میں میرے تمام بچے جو کہ 5 بہنیں اور 4 بھائی ہیں تمام کا حصہ ہے ، ، اگر کسی نے ان میں سے کسی بچے کو حصے سے محروم کیا تو قیامت کے دن میں اُس سے پوچھوں گی ، اور وصیت نامے پر انگھوٹھے بھی لگائے پھر محلے کے تبلیغی جماعت کے امیر نے والدہ سے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے تو والدہ نے اقرار کیا کہ ہاں ، اور اس وصیت نامے کی ویڈیو بھی بارہ ہمارے پاس موجود ہے ، اور وہ معزز گواہ بھی موجود ہیں، اور یہ مسئلہ کورٹ میں بھی پیش ہو چکا ہے جو کہ تمام بچوں کے حق میں فیصلہ ہوا ہے تو مفتیان کرام قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کا فتوی مع دلائل قرآن و حدیث و اجماع و قیاس کے عطا فرمائیں تاکہ ہم اس پر عمل کر کے اللہ کے ہاں رجوع کریں ، وجزاكم الله خيرًا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہبہ و گفٹ کے صحیح ہو نے کےلئے ضروری ہے کہ موہوب لہ کو اس چیز پر مالکانہ قبضہ بھی دیا جائے محض نام کرنے سے ہبہ درست نہ ہوگا ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے والد نے اگر مذکور مکان اپنی بیوی کےنام کرنے کے ساتھ مالکانہ قبضہ بھی دیا ہو تو ایسی صورت میں یہ ہبہ کہلائے گا اور یہ مکان سائل کی والدہ کی ملکیت شمار ہوگا ، بصورت دیگر یہ مکان والد ہی کی ملکیت رہے گا، جبکہ سا ئل کے والدکا اپنے کسی بیٹے کو میراث سے محروم کرنے کی وصیت کرناشرعاً درست نہیں اور ایسی دستاویزات جس میں میراث سے محرومی کی وصیت درج ہو ، اگر چہ مرحوم کے دستخط کے ساتھ ہو ، اسکا کوئی اعتبار نہ ہوگا ، بلکہ محروم کردہ افراد بھی حسب ضابطہ بقیہ ورثاء کے ساتھ میراث میں شریک ہوں گے ، بہر صورت جب والدین دونوں کا انتقال ہوچکا ہے تو یہ مکان مرحومین کی اولاد میں اصول میراث کے مطابق تقسیم ہوگا اور اس سلسلہ میں سائل کی والدہ کا وفات سے قبل تبلیغی جماعت کے امیر اور دیگر حضرات کی موجودگی میں گھر کو اولاد کے درمیان تقسیم کرنے کی تاکید کرنا اور کسی کو محروم نہ کرنے پر زور دینا مقتضاء شریعت کے عین مطابق ہے ۔جس کا لحاظ رکھنا بہر حال ضروری ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامةالخ (باب الوصایا، الفصل الثالث،ج:١،ص: ٢٦٦،ط: قدیمی كتب خانه)۔
وفي التاترخانية : وأما شرائط صحتها فأنواع ،أما في الموهوب فهو أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما اذا كان ما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب (كتاب الهبة ، ج: ١٤، ص؛ ٤١٢،ناشر ؛ حقانية )
وفي تكملة رد المحتار: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان ‌الارث ‌جبري لا يصح تركه اهـ(ج: ٨ ص: ٢٠٨ مط : دار الفكر بيروت)
وفي الدر المختار: (وإن أقر المريض لوارثه) بمفرده أو مع أجنبي بعين أو دين (بطل) خلافا للشافعي - رضي الله تعالى عنه -: ولنا حديث «‌لا ‌وصية ‌لوارث ولا إقرار له بدين»(باب إقرا

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93126کی تصدیق کریں
0     177
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • وراثت کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 6
  • باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 4
  • کسی وارث کا اپنا حصہ میراث معاف کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 3
  • بھائیوں کا مرحوم والد کے ترکہ میں سے بہن کو حصہ نہ دینا

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 1
  • وفات کے بعد ملنے والی پینشن اورگریجویٹی کاحکم

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • ورثے میں انشورنس کمپنی سے پیسے ملیں تو ان کا کیا حکم ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وراثت 0
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • یتیم پوتوں کو دادا کی جائیدا میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • وراثت کی تقیسم میں بلا وجہ تاخیر کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 3
  • بیٹوں کو ہبہ کردہ حصے میں بیٹیوں کا بعد از وفات حصہ مانگنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • والد کی زندگی میں وفات پانے والے بیٹے کی بیوہ اور اولاد کا وراثت میں حصہ

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • نافرمان بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بیوہ ،سات بیٹوں اور تین بیٹیوں میں ترکے کی تقسیم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکے کے مکان سے کرایہ کی مد میں حاصل شدہ رقم میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بہنوں کا میراث میں حصہ اور اپنا حصہ معاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بڑے بیٹے کی کمائی میں , باپ کے انتقال کے بعد وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء=بیوہ,والد,والدہ,ایک بیٹا ایک بیٹی)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = 3 بیٹے 1 بیٹی 1 بہو 1 پوتا)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(ورثاء = ایک بیوہ ,دو بیٹے, ایک بیٹی, پانچ بھائی, پانچ بہنیں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • بیٹے کی ذاتی کمائی میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
  • کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 2
  • بھائی کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے ترکے میں بہن حصہ دار ہوگی یا نہیں ؟

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)

    یونیکوڈ   احکام وراثت 0
  • باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   احکام وراثت 1
Related Topics متعلقه موضوعات