السلام علیکم! حضرات کرام عرض یہ ہے کہ ہمارا ایک گھر ہے جو کہ والد نے اپنے انتقال کے وقت والدہ کے نام کر دیا تھا اور کچھ کاغذات پر والد کا سائن ہے (دستخط ) کہ جس سے ہم تمام بھائی بے خبر ہیں کہ والد نے ہمیں آگاہ کیوں نہیں کیا تھا حالانکہ ہمارے والد نہایت نڈر ، مخلص اور سچی بات اور سامنے بات کرنے والے شخص تھے وہ کاغذات یہ ہیں کہ والد نے کہا ہے کہ میں نے اپنے تمام بچوں پر اُنکی ضروریات کیلئے رقوم خرچ کی ہیں مثلاً محمد زرین کی ٹانگ کا فیکچر ہوا تھا تو میں نے اُسکے لئے آدھا گھر بھیج کر اُسکا علاج کیا ہے لہٰذا محمد زرین خان کا حصہ وراثت خارج ہو گیا اب میرے گھر میں محمد زرین کا کوئی حق نہیں ہے ، ہکذا دوسروں کے بارے ، میں تو محترم ان کا غذات سے ہم نا واقف ہیں کہ والد نے ہمیں کیوں نہیں بتایا تھا ، اور اسکے برعکس جب والدہ کا انتقال قریب تھا تو والدہ نے ہمارے خاندان کے بزرگ اور محلے کے تبلیغی جماعت کے امیر کو اپنے گھر بلا کر یہ وصیت کی کہ میرا یہ گھر میرے نام پر ہے اب میں یہ گھر تمام بچوں کے وراثت میں دیتی ہوں اس گھر میں میرے تمام بچے جو کہ 5 بہنیں اور 4 بھائی ہیں تمام کا حصہ ہے ، ، اگر کسی نے ان میں سے کسی بچے کو حصے سے محروم کیا تو قیامت کے دن میں اُس سے پوچھوں گی ، اور وصیت نامے پر انگھوٹھے بھی لگائے پھر محلے کے تبلیغی جماعت کے امیر نے والدہ سے کہا کہ یہ بات حقیقت ہے تو والدہ نے اقرار کیا کہ ہاں ، اور اس وصیت نامے کی ویڈیو بھی بارہ ہمارے پاس موجود ہے ، اور وہ معزز گواہ بھی موجود ہیں، اور یہ مسئلہ کورٹ میں بھی پیش ہو چکا ہے جو کہ تمام بچوں کے حق میں فیصلہ ہوا ہے تو مفتیان کرام قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کا فتوی مع دلائل قرآن و حدیث و اجماع و قیاس کے عطا فرمائیں تاکہ ہم اس پر عمل کر کے اللہ کے ہاں رجوع کریں ، وجزاكم الله خيرًا
واضح ہو کہ ہبہ و گفٹ کے صحیح ہو نے کےلئے ضروری ہے کہ موہوب لہ کو اس چیز پر مالکانہ قبضہ بھی دیا جائے محض نام کرنے سے ہبہ درست نہ ہوگا ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے والد نے اگر مذکور مکان اپنی بیوی کےنام کرنے کے ساتھ مالکانہ قبضہ بھی دیا ہو تو ایسی صورت میں یہ ہبہ کہلائے گا اور یہ مکان سائل کی والدہ کی ملکیت شمار ہوگا ، بصورت دیگر یہ مکان والد ہی کی ملکیت رہے گا، جبکہ سا ئل کے والدکا اپنے کسی بیٹے کو میراث سے محروم کرنے کی وصیت کرناشرعاً درست نہیں اور ایسی دستاویزات جس میں میراث سے محرومی کی وصیت درج ہو ، اگر چہ مرحوم کے دستخط کے ساتھ ہو ، اسکا کوئی اعتبار نہ ہوگا ، بلکہ محروم کردہ افراد بھی حسب ضابطہ بقیہ ورثاء کے ساتھ میراث میں شریک ہوں گے ، بہر صورت جب والدین دونوں کا انتقال ہوچکا ہے تو یہ مکان مرحومین کی اولاد میں اصول میراث کے مطابق تقسیم ہوگا اور اس سلسلہ میں سائل کی والدہ کا وفات سے قبل تبلیغی جماعت کے امیر اور دیگر حضرات کی موجودگی میں گھر کو اولاد کے درمیان تقسیم کرنے کی تاکید کرنا اور کسی کو محروم نہ کرنے پر زور دینا مقتضاء شریعت کے عین مطابق ہے ۔جس کا لحاظ رکھنا بہر حال ضروری ہے ۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامةالخ (باب الوصایا، الفصل الثالث،ج:١،ص: ٢٦٦،ط: قدیمی كتب خانه)۔
وفي التاترخانية : وأما شرائط صحتها فأنواع ،أما في الموهوب فهو أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما اذا كان ما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب (كتاب الهبة ، ج: ١٤، ص؛ ٤١٢،ناشر ؛ حقانية )
وفي تكملة رد المحتار: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه اهـ(ج: ٨ ص: ٢٠٨ مط : دار الفكر بيروت)
وفي الدر المختار: (وإن أقر المريض لوارثه) بمفرده أو مع أجنبي بعين أو دين (بطل) خلافا للشافعي - رضي الله تعالى عنه -: ولنا حديث «لا وصية لوارث ولا إقرار له بدين»(باب إقرا
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1