السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
گزارش ہے کہ ایک جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے شرعی رہنمائی درکار ہے۔ ہمارے گاؤں میں ایک مشترکہ میدان موجود تھا، جسے 1990 میں گاؤں کی کمیٹی نے تمام "گھرانوں" (Households) کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقسیم کا اصول یہ طے پایا تھا کہ ہر گھرانے کے سربراہ کو ایک کارڈ جاری کیا جائے گا اور اسی کارڈ کی بنیاد پر اسے حصہ ملے گا۔
واقعہ کی تفصیل درج ذیل ہے:
اس وقت ایک شخص (والد) کے دو شادی شدہ بیٹے تھے۔ ایک بیٹا اپنے والد سے الگ گھر میں رہتا تھا، جبکہ دوسرا بیٹا والد کے ساتھ ایک ہی گھر (ایک ہی چولہے) پر رہتا تھا۔
کمیٹی نے الگ رہنے والے بیٹے کو ایک آزاد اور مستقل گھرانہ تسلیم کرتے ہوئے اس کے نام الگ کارڈ جاری کیا اور اسے اس کا حصہ مل گیا۔
والد اور ان کے ساتھ رہنے والے دوسرے بیٹے کو ایک ہی گھرانہ (Household) شمار کیا گیا، جس کی وجہ سے ان کا مشترکہ حصہ والد کے نام پر الاٹ (Allot) کر دیا گیا۔ اس بیٹے کے نام پر اس وقت کوئی الگ کارڈ نہیں بنایا گیا تھا۔
اب 2008 میں والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے۔
اب وہ بیٹا جو 1990 میں اپنا الگ حصہ (بطور مستقل گھرانہ) لے چکا ہے، وہ مطالبہ کر رہا ہے کہ والد کے نام جو زمین لگی تھی، وہ "وراثت" ہے، لہٰذا شرعی طور پر اس میں سے بھی اسے حصہ دیا جائے۔
کیا شرعی لحاظ سے وہ بیٹا جو 1990 میں اپنا "گھرانہ حصہ" وصول کر چکا ہے، والد کے اس حصے میں دوبارہ حق دار ہے جو صرف "گھرانہ یونٹ" کی بنیاد پر والد کے نام لگا تھا؟ جبکہ دوسرا بھائی اس وقت والد کے ساتھ تھا اور اسے اپنے نام پر کوئی الگ حصہ نہیں ملا تھا۔ کیا والد کے نام والا یہ حصہ صرف اسی بیٹے کا حق نہیں ہونا چاہیے جو اس وقت اس گھرانے کا حصہ تھا؟
گاؤں کی کمیٹی کا مقصد افراد کی تقسیم نہیں بلکہ گھرانوں کو بسانا تھا۔ اگر یہ زمین "وراثت" ہوتی تو تقسیم کا طریقہ الگ ہوتا، مگر یہ "عطیہ" تھا جو صرف گھرانوں کو دیا گیا۔
البتہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں عوامی زمینوں کی تقسیم کا رواج گھرانوں (چولہوں) کی بنیاد پر ہے تاکہ ہر خاندان کے پاس اپنی جگہ ہو۔اوراگر الگ رہنے والے بھائی کو دو حصے مل جائیں اور ساتھ رہنے والے کو (جس کا اپنا کوئی الگ کارڈ نہیں تھا) صرف آدھا حصہ ملے، تو یہ صریح ناانصافی محسوس ہوتی ہے۔
واضح ہو کہ شرعی ضابطہ کے مطابق ہر آدمی اپنی زندگی میں جس چیز کا بھی جائز طریقے سے مالک بنا تو اس کے انتقال پر وہ تمام اشیاء ترکہ بن کر اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہوجاتی ہیں اور ہر وارث اپنے حصہٴ شرعی کے تناسب سے مالک اور حقدار ٹھہر تا ہے۔چنانچہ صورتِ مسئولہ میں والد سے الگ رہنے والے بیٹے کو مشترکہ میدان کی تقسیم کے نتیجےمیں جو قطعہ ملا وہ اکیلے اس کی ملکیت ہےاس کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں اور جو قطعہ والد کو ملا تھا وہ اپنی زندگی میں اس کا مالک بن چکا تھا ،اور والد کی زندگی میں اس میں اور کوئی حق دار نہ تھا اور اب چونکہ والد کا انتقال ہوچکا ہے،اور والد کے انتقال ہوجانے کے بعد اسکی ملکیت میں جوکچھ تھا وہ ترکہ شمار ہوگا، جو والد کے تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا، اس لئے کمیٹی کی طرف سے والد کو ملنے والے قطعہ زمین میں والد سے الگ رہنے والا بیٹا بھی وارث ہونے کی حیثیت سے شریک اور حصہ دار ہے،چنانچہ والد کو ملنے والی زمین اب والد سے الگ رہنے والے بیٹے سمیت والد مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعی تقسیم ہوگی ،البتہ مذکور بیٹے کو جب والد کی زندگی میں ہی والد کے حصے کے مساوی حصہ ملا تھا تو اسے چاہئے کہ ترکہ میں مزید حصہ لینے کے بجائے اپنا حصہ اپنے بھائی اور دیگر ورثاء (بیوںہ و غیرہ) میں تقسیم کرے۔
كما قال الله تعالي:یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ.(سورة النساء،أيت نمبر:11)
و فی شرح المجلۃ: المادۃ 1092- کما أن أعیان المتوفی المتروکۃ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصھم کذلک یکون الدین الذی لہ فی ذمۃ شخص مشترکاً بینھم علی حسب حصصھم إلخ(الکتاب العاشر: فی انواع الشرکات، ج :4 ، ص: 27 ، ط: دار الکتب العلمیۃ)-
وفی الدر المختار: لا یجوز التصرف فی مال غیرہ بلا إذنہ(کتاب الغصب، ج :9، ص: 291، ط: دار الکتب العلمیۃ)-
وفی الھندیۃ: أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له، ألا ترى أنه لو غرس شجرة تكون للأب۔ اھ (کتاب الشرکۃ،ج:2، ص: 329، ناشر: ماجدیۃ)-
و فی رد المحتال تحت قولہ(وما حصله أحدهما فله وما حصلاه معا فلهما)فأجاب بأنه بينهما سوية، وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ وقدمنا أن هذا ليس شركة مفاوضة ما لم يصرحا بلفظها أو بمقتضياتها مع استيفاء شروطها، ثم هذا في غير الابن مع أبيه؛ لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها، وقيل بينهما نصفان.( فصل في الشركة الفاسدة ،ج:4،ص:325،ط:سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0