اگر انسان کی ایک ہی بیٹی ہو اور اس کے علاوہ اس کی کوئی اولاد نہ ہو تو اسلام میں جائیداد کی تقسیم کا کیا حکم ہے ؟
اگر کوئی شخص انتقال کر جائے اور اس کی صرف ایک ہی بیٹی وارث بن رہی ہو اس کے علاوہ کوئی اور شرعی وارث ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی( مرحوم کی بیوہ ،والد،والدہ،بیٹا،پوتا،دادا،دادای،بھائی بھتیجا ،چچایا چچا زاد بھائی وغیرہ ) نہ ہو تو حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد سارا مال وراثت اس ایک بیٹی کو ملےگا
واللہ خیر الوارثین
محمد عاشق عفی عنہ
دارالافتاء جامعہ بنوریۃ عالمیۃ
2026/6/28
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0