موضوع: والدہ کی خرید کردہ زمین کی ملکیت اور أولاد کے حقوق کے بارے میں شرعی رہنمائی،محترم مفتی صاحب ! دارالافتاء، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ایک خاندانی معاملہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے، اس لیے درج ذیل صورتِ حال آپ کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے:ایک شخص کا انتقال ہوا تو اس کے ورثاء میں ایک بیوہ اور چار بچے تھے:1۔ پہلی بیٹی2۔ ایک بیٹا3۔ دوسری بیٹی4۔ تیسری بیٹی،والد کی وفات کے وقت تمام بچے نابالغ تھے، جبکہ بیٹے کی عمر اندازاً 7 یا 8 سال تھی۔ والد کی جو جائیداد تھی وہ شرعی طور پر تمام ورثاء میں تقسیم کر دی گئی تھی اور بیوہ کو بھی اس کا حصہ مل گیا تھا۔بیوہ نے بعد میں دوسری شادی نہیں کی اور انہی بچوں کی پرورش کرتی رہی۔ کچھ سال بعد بیوہ کو موقع ملا اور اس نے اپنی ذاتی محنت یا ذرائع سے کچھ زرعی زمین خریدی۔ سادگی یا کسی اور وجہ سے اس زمین کا انتقال (رجسٹری) اپنے بیٹے کے نام کرا دیا۔ اس وقت تک بچوں میں سے کسی کی شادی نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کوئی باقاعدہ کماتا تھا۔بعد میں جب سب بچے بڑے ہو گئے اور ان کی شادیاں بھی ہو گئیں تو بیٹیوں کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا کہ جو زمین والدہ نے بعد میں خریدی تھی، اس میں ہمارا بھی حق ہونا چاہیے۔اس واقعہ کے بارے میں بچوں کی والدہ اور ان بچوں کے حقیقی چچا دونوں گواہی دیتے ہیں کہ واقعہ اسی طرح پیش آیا تھا۔ اگرچہ خاندان میں کچھ اختلافات بھی ہیں، تاہم مذکورہ چچا نے خود اپنی بھتیجیوں سے ایک موقع پر (جب وہ عمرہ جا رہے تھے) یہ بات کہی کہ:“مجھے معاف کر دو، میں تم لوگوں کا (یعنی بھتیجیوں کا) قصوروار ہوں۔”یہ بات انہوں نے کسی دباؤ کے بغیر، اپنی مرضی سے اس حالت میں کہی تھی، جب وہ عمرہ پر روانہ ہو رہے تھے۔اب سوال یہ ہے کہ:جو زمین بیوہ نے اپنے ذرائع سے بعد میں خریدی تھی، شرعی طور پر اس کی اصل ملکیت کس کی شمار ہوگی؟کیا اس زمین میں بیٹیوں کا بھی کوئی شرعی حق بنتا ہے یا نہیں؟وضاحت:زمین خریدنے کے وقت بچوں میں سے کوئی باقاعدہ کمانے والا نہیں تھا۔ بڑی بیٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ شاید وہ بالغ ہو چکی ہو، مگر دیہاتی ماحول کی وجہ سے وہ کوئی ملازمت یا کمائی نہیں کرتی تھی۔براہ کرم اس معاملے میں قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرما دیں ،جزاکم اللہ خیراً۔
تنقیحات: 1۔ جس والدہ کی بات ہورہی ہے وہ والدہ زندہ ہے یا انتقال ہو چکا ہے؟ اگر زندہ ہے تو پھر اولاد کے درمیان اختلافات کیوں ہو رہے ہیں؟
2۔ چچا کی اس بات کی کیا مراد ہے کہ : "مجھے معاف کر دو، میں تم لوگوں کا (یعنی بھتیجیوں کا) قصوروار ہوں" ؟
جواب علی التنقیحات:
سوال نمبر 1 کا جواب: والدہ کی حالت اور اولاد کے درمیان اختلاف کی وجہ:
جس والدہ کی بات ہو رہی ہے، وہ الحمدللہ زندہ ہیں۔ جہاں تک اولاد کے درمیان اختلاف اور تنازع کا تعلق ہے، تو اس کی اصل وجہ زمین کی ملکیت کا معاملہ ہے۔قانونی حیثیت: یہ زمین قانونی طور پر بھائی کے نام منتقل کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے کاغذی کارروائی میں وہی اس کا مالک ہے۔
بہنوں کا موقف: بہنوں کا دعویٰ ہے کہ اس زمین میں شرعی طور پر ان کا بھی حصہ بنتا ہے اور انہیں ان کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔
شرعی حیثیت کا خلاصہ:
شریعتِ اسلامیہ کی رو سے محض کسی کے نام پر قانونی طور پر زمین کروا دینے سے دوسرے جائز حق داروں (بہنوں) کا حق ختم نہیں ہوتا۔ اگر وہ زمین مشترکہ خاندانی سرمائے یا والد کی وراثت سے تھی، تو اس میں بہنوں کا دعویٰ شرعاً بالکل درست اور سچا ہے، اور بھائی کا اکیلے مالک بن بیٹھنا غلط ہے۔
سوال نمبر 2 کا جواب
چچا کی بات (شرمندگی اور معافی مانگنے) کا مطلب:
چچا کے اس جملے کا مقصد اپنی ماضی کی ایک بڑی غلطی کا اعتراف اور اس پر ندامت کا اظہار کرنا ہے۔
اصل وجہ: جس وقت یہ زمین خریدی گئی تھی، اس وقت چچا نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے تمام حق داروں (بھتیجیوں) کو ان کا حق دینے کے بجائے، وہ پوری زمین اپنے بھتیجے (بھائی) کے نام کروا دی تھی۔
شخصی مفاد: چچا نے یہ فیصلہ اس لیے کیا تھا کیونکہ وہ اس بھتیجے کو اپنا داماد بنانا چاہتے تھے اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر انہوں نے بھتیجیوں کی حق تلفی کی۔
شرمندگی کی وجہ: چونکہ وہ شادی (بھتیجے کو داماد بنانے کا معاملہ) نہ چل سکی، اس لیے اب چچا کو اپنی اس ناانصافی پر شدید افسوس اور شرمندگی ہے۔ وہ یہ مان رہے ہیں کہ انہیں اس وقت انصاف کرنا چاہیے تھا اور جس جس کا حق تھا، زمین اسی کے نام کروانی چاہیے تھی۔ اسی لیے وہ بھتیجیوں سے اپنے اس قصور کی معافی مانگ رہے ہیں۔
واضح ہو کہ کوئی چیز محض کسی کے نام کرنے یا ز بانی طورپر کسی کو دیدینے سے شرعاً اس کی ملکیت نہیں بنتی، جب تک اسے اس چیز پر مالکانہ قبضہ اور تصرف کا مکمل اختیار نہ دیدیا جائے ، لہذا صورت مسئولہ مىں والدہ نے اگر وه زمين فقط بىٹے كے نام كى ہو اور اسے باقاعده مالكانہ قبضہ اور تصرفات كا اختيار نہ ديا ہو تو وہ بیٹا اس جائداد کے محض کا غذات میں نام ہونے کی وجہ سے اس زمین كا مالك نہىں بنا، بلکہ بدستور مذکور جائداد والدہ کی ملکیت میں برقرار ہے، وہ اس میں اپنی منشا اور مرضی کے مطابق تصرف کرنے کى مجاز ہے، چنانچہ بيٹىوں كا مذكور زمين پر حق جتلا كر اس سے حصہ دارى كا مطالبہ كرنا ، يا مذكور بىٹے كا صرف كاغذى كار وائى كى بنياد پر اس زمىن پر قابض رہنا شرعاً جائز نہىں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في البحر الرائق: (قوله وجعلته لك) لأن اللام للتمليك ولهذا لو قال هذه الأمة لك كان هبة ولو قال هي لك حلال لا تكون هبة إلا أن يكون قبله كلام يستدل به على أنه أراد به الهبة كذا في الخلاصة قيد بقوله لك لأنه لو قال جعلته باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة.اهـ (كتاب الهبة، ج: 7، ص: 285، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي الدر المختار: (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) (إلى قوله) و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (وركنها) هو (الإيجاب والقبول).إلخ. (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 687، ط: إيج إيم سعيد)
وفي رد المحتار: أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى (كتاب الوقف، ج: 4، ص: 444)
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0